امریکا کا ایران پر معاشی وار، 13 کروڑ ڈالر سے زائد کے ڈیجیٹل اثاثے منجمد

امریکا کا ایران پر معاشی وار، 13 کروڑ ڈالر سے زائد کے ڈیجیٹل اثاثے منجمد

امریکا نے ایران کے مرکزی بینک سے منسلک 13 کروڑ ڈالر سے زائد مالیت کے ڈیجیٹل اثاثے منجمد کرنے کا اعلان کیا ہے۔

امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا ایران کے مبینہ غیر قانونی مالیاتی نیٹ ورکس کے ذریعے حاصل کیے جانے والے فنڈز تک رسائی محدود کرنے کی کوششیں مزید تیز کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ اقدام امریکی محکمۂ خزانہ کی اس وسیع مہم کا حصہ ہے جس کا مقصد ایرانی سرگرمیوں کی مالی معاونت کے لیے ڈیجیٹل اثاثوں کے مبینہ استعمال کو روکنا ہے۔اسکاٹ بیسنٹ کے مطابق امریکی محکمۂ خزانہ ایران کی مبینہ غیر قانونی مالی سرگرمیوں اور ڈیجیٹل اثاثوں کے مبینہ غلط استعمال کو روکنے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے بتایا کہ محکمۂ خزانہ کے دفتر برائے غیر ملکی اثاثہ جات کنٹرول (او ایف اے سی) نے ایران کے مرکزی بینک سے منسلک متعدد کرپٹو والیٹس پر پابندیاں عائد کی ہیں، جس کے نتیجے میں 13 کروڑ ڈالر سے زائد مالیت کے ڈیجیٹل اثاثے منجمد کر دیے گئے۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکی محکمۂ خزانہ ایران کے مالیاتی ذرائع کو مسلسل نشانہ بناتا رہے گا تاکہ ایرانی حکومت کو مبینہ غیر قانونی آمدنی سے حاصل ہونے والے وسائل تک رسائی سے محروم رکھا جا سکے۔یہ پابندیاں امریکی محکمۂ خزانہ کے آفس آف فارن ایسیٹس کنٹرول (OFAC) کی جانب سے عائد کی گئی ہیں، جو امریکا کی اقتصادی اور تجارتی پابندیوں پر عمل درآمد کا ذمہ دار ادارہ ہے۔امریکی حکام کے مطابق یہ اقدام ایران پر مالی دباؤ بڑھانے کی پالیسی کا حصہ ہے، جبکہ حالیہ عرصے میں امریکا متعدد ایرانی افراد، اداروں اور بحری جہازوں پر بھی نئی پابندیاں عائد کر چکا ہے۔ واشنگٹن کا کہنا ہے کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر ایران پر اقتصادی دباؤ مزید سخت کیا جا رہا ہے۔