لنزے گراہم کی اچانک موت پر ایف بی آئی کی تحقیقات وسائل کا ضیاع ہیں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

لنزے گراہم کی اچانک موت پر ایف بی آئی کی تحقیقات وسائل کا ضیاع ہیں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سینیٹر لنڈسے گراہم کی مبینہ موت سے متعلق گردش کرنے والے دعوؤں اور ان پر کی جانے والی تحقیقات کے حوالے سے ایف بی آئی کے کردار پر تنقید کرتے ہوئے اسے وسائل کا ضیاع قرار دیا۔

اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ انہیں اس معاملے میں کسی مجرمانہ سازش کے شواہد نظر نہیں آتے۔ ان کے مطابق اس حوالے سے مختلف سازشی نظریات گردش کر رہے ہیں، تاہم اگر ایف بی آئی ان پر وقت صرف کر رہی ہے تو یہ وسائل کا غیر ضروری استعمال ہے۔رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے طبی رپورٹس کا جائزہ لیا ہے اور وائٹ ہاؤس کے ڈاکٹروں سے بھی معلومات حاصل کی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر موت کی وجہ اورٹک ڈائسیکشن (شہ رگ کا پھٹ جانا) ہو تو اس کی بروقت تشخیص انتہائی مشکل ہوتی ہے، جبکہ بعض اوقات شدید کمر درد اس کی ایک ممکنہ علامت ہو سکتی ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ گراہم کے والد بھی تقریباً اسی عمر میں دل کے عارضے کے باعث انتقال کر گئے تھے، جبکہ گراہم بھی کمر درد کی شکایت کرتے تھے، تاہم کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ یہ کسی سنگین بیماری کی علامت ہو سکتی ہے۔

دوسری جانب ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کاش پٹیل نے کہا کہ ادارہ مقامی حکام کی معاونت کر رہا ہے، تاہم قانون نافذ کرنے والے حکام کے مطابق اب تک کسی مجرمانہ کارروائی کے شواہد سامنے نہیں آئے۔سوشل میڈیا پر اس معاملے سے متعلق روس، ایران، یوکرین اور اسرائیل سمیت مختلف ممالک کے حوالے سے غیر مصدقہ دعوے بھی گردش کرتے رہے، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ ان دعوؤں کی تائید کرنے والا کوئی ثبوت موجود نہیں ہے۔