امریکی سیاستدانوں اور عالمی اقتصادی حلقوں میں اس وقت زیرِ بحث ہے کیونکہ اس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بھارت کے خلاف عائد کیے گئے اضافی 25 فیصد ٹیرف کے فیصلے کو سراہا گیا ہے۔
سینیٹر لنزی گراہم نے اس اقدام کو ایک فیصلہ کن اور بروقت قدم قرار دیا ہے، جس کا مقصد بھارت کی روس سے تیل خریدنے کی پالیسی پر اثر انداز ہونا ہے۔گراہم کا کہنا ہے کہ اب بھارت کے لیے روس سے سستا تیل خریدنا اتنا آسان نہیں رہا جتنا پہلے تھا، کیونکہ اس ٹیرف اضافے کے بعد بھارت کی روسی تیل کی درآمد پر اثر پڑے گا۔ انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ بھارت روسی صدر ولادی میر پیوٹن سے تیل خریدنے پر بضد ہے تاکہ یوکرین میں جاری خونریزی جاری رہ سکے، لیکن امریکی حکمت عملی سے دنیا کو یہ پیغام دیا گیا ہے کہ اگر بھارت روس سے تیل خریدتا ہے تو اسے امریکی معیشت کو نقصان پہنچانے سے بچانے کے لیے اضافی ٹیرف کا سامنا کرنا ہوگا۔گراہم نے یہ بھی کہا کہ جو ممالک اس عمل میں ملوث ہیں، انہیں اب دوسروں کو ذمہ دار ٹھہرانے کے بجائے خود اپنی پالیسیاں دیکھنی ہوں گی۔
انہوں نے صدر ٹرمپ کو شاباش دی اور کہا کہ وہ ایک مضبوط اور فیصلہ کن رہنما ہیں، جن کا مقصد دنیا میں یوکرین میں جاری خونریزی کو روکنا ہے۔یاد رہے کہ اس فیصلے کے بعد امریکہ میں ٹیرف کی مجموعی شرح 50 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جس کا مقصد بھارت کی روس نواز پالیسیوں کے خلاف ایک سخت پیغام دینا ہے۔ یہ اقدام عالمی سطح پر بھارت کے روس سے تعلقات اور اس کی خارجہ پالیسی پر اثر انداز ہو سکتا ہے، اور اس کے اقتصادی اور سیاسی نتائج مرتب ہو سکتے ہیں۔یہ خبر عالمی اقتصادی اور سیاسی تجزیہ کاروں کے لیے اہم ہے کیونکہ اس سے امریکہ اور بھارت کے تعلقات، اور عالمی تیل کی منڈیوں پر ممکنہ اثرات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔