امریکی صدر نے ایران کو ایک بار پھر سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر جوہری معاہدے سے متعلق پیش رفت نہ ہوئی تو اگلے ہفتے ایران کے بجلی گھروں اور پلوں سمیت اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
امریکی صدر نے ایران پر کشیدگی بڑھانے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ "ایرانیوں نے پہلے گولی چلائی تھی" اور انہیں "مشکل لوگ" قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک وہ خود انہیں روکنے کا فیصلہ نہیں کرتے۔انہوں نے کہا کہ ان کی خواہش تھی کہ ایرانی قیادت کو سفارتی معاہدے کا ایک موقع دیا جائے، تاہم معاہدے کی بعض اہم شقوں پر تہران کے اختلافات کے باعث حملوں کا سلسلہ دوبارہ شروع کرنا پڑا۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ انہیں ایران کے خلاف دوبارہ حملے کا فیصلہ کرنے پر کوئی افسوس نہیں اور اگر ضرورت محسوس ہوئی تو مزید فوجی کارروائی سے بھی گریز نہیں کیا جائے گا۔دوسری جانب ایران کی جانب سے ان بیانات پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی برادری صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔