چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) بیرسٹر گوہر خان نے کہا ہے کہ پارٹی میں کوئی اختلاف نہیں بلکہ معمولی سی غلط فہمی تھی، جو اب ختم ہو چکی ہے۔
اُن کے مطابق اُن کی شیخ وقاص اکرم اور عالیہ حمزہ سے بات ہو گئی ہے اور تمام معاملات خوش اسلوبی سے حل ہو چکے ہیں۔
اڈیالہ جیل آمد، پولیس کی جانب سے روکا گیا
بیرسٹر گوہر راولپنڈی کی اڈیالہ جیل پہنچے جہاں اُنہیں داہگل ناکے پر پولیس نے کچھ دیر کے لیے روکے رکھا۔ بعد ازاں وہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مختلف اہم امور پر روشنی ڈالی۔
عمران خان کی مکمل حمایت علی امین گنڈاپور کو حاصل
انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان واضح کر چکے ہیں کہ 5 اگست کو تحریک اپنے عروج پر ہوگی اور خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کو عمران خان کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ انہوں نے گنڈاپور کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ بہترین انداز میں صوبہ چلا رہے ہیں۔
ہم گوریلا فورس نہیں، لیکن تحریک ضرور چلائیں گے
بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی ایک سنجیدہ سیاسی جماعت ہے اور وہ دوسروں کی طرح پسند و ناپسند کی بنیاد پر فیصلے نہیں کرتی۔ ان کے بقول، "ہم تحریک ضرور چلائیں گے لیکن ہم کوئی گوریلا فورس نہیں۔ ہمیں دو سال ہو گئے، اب کامن سینس استعمال کرنے کا وقت ہے، جو لوگ اوپر بیٹھے ہیں انہیں سوچنا چاہیے۔"
سینیٹ الیکشن پر وضاحت
انہوں نے یہ بھی وضاحت کی کہ سینیٹ انتخابات کے حوالے سے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک فہرست جعلی ہے۔ بیرسٹر گوہر نے بتایا کہ پارٹی کی جانب سے جو فہرست باقاعدہ جاری کی گئی ہے، وہی اصل ہے اور اُسی میں شامل امیدوار ہی پی ٹی آئی کے نامزد اُمیدوار ہیں۔