34 پرائیویٹ ایمبولینس ڈرائیورز کے خلاف مختلف تھانوں میں ایف آئی آرز ،82 کے پاس لائسنس موجود نہیں
لاہور(کرائم رپورٹر) ریسکیو کے تحت پنجاب بھر میں پرائیویٹ ایمبولینسز کی رجسٹریشن کا عمل تیزی سے جاری ہے۔ترجمان ریسکیو کے مطابق ڈائریکٹر لیگل ریسکیو نے رجسٹریشن کے حوالے سے سیکرٹری ایمرجنسی سروسز کو تفصیلی بریفنگ دی۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ اب تک 1395 پرائیویٹ ایمبولینسز کو رجسٹریشن سرٹیفیکیٹ جاری کیے جا چکے ہیں جبکہ 423 ایمبولینسز کے کاغذات نامکمل ہونے کے باعث رجسٹریشن نہیں ہو سکی۔ مزید انکشاف کیا گیا کہ 34 پرائیویٹ ایمبولینس ڈرائیورز کے خلاف مختلف تھانوں میں ایف آئی آرز درج ہیں 20 ایمبولینسز کی رجسٹریشن فیک پائی گئی جبکہ 88 ایمبولینسز تاحال ایکسائز ڈیپارٹمنٹ سے رجسٹرڈ نہیں ہیں۔ اسی طرح 82 ڈرائیورز کے پاس ڈرائیونگ لائسنس موجود نہیں۔ بریفنگ میں یہ بھی بتایا گیا کہ 92 پرائیویٹ ایمبولینسز ایسی ہیں جو ایکسائز میں ایمبولینس کے طور پر رجسٹرڈ ہی نہیں۔مزید بتایا گیا کہ 19 ایمبولینسز کے کاغذات اور ملکیت مشکوک ہونے کے باعث جمع نہیں کروائے جا سکے۔ اس کے علاوہ 34 ڈرائیورز کی پولیس ویریفیکیشن تاحال مکمل نہیں جبکہ 16 پرائیویٹ ایمبولینسز کے ڈرائیور میڈیکلی فٹ قرار نہیں دیے گئے۔ بریفنگ کے دوران یہ بھی سامنے آیا کہ 78 ایمبولینسز فٹنس پر پورا نہ اترنے کے باعث VICS سے کلیئر نہیں ہو سکیں۔سیکرٹری ایمرجنسی سروسز ڈاکٹر رضوان نے پرائیویٹ ایمبولینس مالکان کو ہدایت کی کہ وہ قانون کی مکمل پاسداری کریں اور ایمبولینسز کا غلط استعمال ہرگز نہ کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ عوام کی جانوں کے تحفظ کے لیے غیر معیاری اور غیر قانونی ایمبولینسز کے خلاف کارروائی جاری رہے گی۔