ایران میں انٹرنیشنل کالز بحال، انسانی حقوق تنظیم کا 2403 ہلاکتوں کا دعوی‘متعدد گھروں سے امریکی ساختہ دھماکہ خیز مواد اور اسلحہ پکڑ لیا: ایرانی انٹیلی جنس حکام
بیرونِ ملک سے دہشت گرد ایجنٹوں کو احکامات دینے کے شواہد موجود ہیں:ایرانی وزیرخارجہ‘کسی بھی جارحیت کی صورت میں ایران کے پاس کئی سرپرائز موجود ہیں:وزیر دفاع
دہشت گردوں کو انتشار پھیلانے کی اجازت نہیں دیں گے:چیف آف سٹاف میجر جنرل سید عبدالرحیم موسوی‘ ایران پہلے سے زیادہ طاقتور ہو چکا ہے: آرمی چیف امیرحاتمی
تہران،لندن،نیویارک(آئی این پی‘مانیٹرنگ ڈیسک )ایران میں دو ہفتوں سے جاری پرتشدد مظاہروں کا سلسلہ رک گیا، احتجاج رکنے کے بعد حالات معمول پر آنے لگے، انٹرنیشنل کالز بحال کردی گئیں تاہم انٹرنیٹ سروس ابھی بند ہے۔عالمی میڈیارپورٹس کے مطابق ایرانی انٹیلی جنس حکام کا کہناہے کہ متعدد گھروں سے امریکی ساختہ دھماکہ خیز مواد اور اسلحہ پکڑ ا گیا ہے،امریکی انسانی حقوق تنظیم نے دعوی کیا کہ ایران میں احتجاجی مظاہروں کے دوران اب تک 2403 مظاہرین ہلاک ہوچکے ہیں۔ دوسری جانب ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ امریکا نے ملٹری آپریشن کی کوشش کی تو ایران تیار ہے۔انہوں نے کہا کہ ایران نے ملک میں مہنگائی کے خلاف جائز احتجاج کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا، مظاہرین سے ریلیف کی بات چیت جاری تھی کہ ٹرمپ کو مداخلت کا موقع فراہم کرنے کے لیے سازش کے تحت مظاہروں کو پرتشدد کردیا گیا تاکہ ایران کے خلاف بیرونی فوجی طاقت کا ممکنہ جواز تلاش کیا جا سکے ۔ایرانی وزیرخارجہ نے کہا کہ ان کے پاس بیرونِ ملک سے دہشت گرد ایجنٹوں کو احکامات دینے کے شواہد موجود ہیں، نہیں سمجھتے کہ امریکا منصفانہ مذاکرات کے لیے تیار ہے۔ایران کے وزیر دفاع بریگیڈیئر جنرل عزیز ناصر زادہ نے ایک بار پھر خبردار کیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کسی بھی نئی جارحیت کا بھرپور اور فیصلہ کن جواب دے گا۔ کسی بھی جارحیت کی صورت میں ایران کے پاس کئی ایسے سرپرائز موجود ہیں جو انتہائی مثر ثابت ہوں گے۔ وزیر دفاع نے کہا کہ اگر یہ دھمکیاں عملی شکل اختیار کریں تو ہم ملک کا دفاع مکمل طاقت سے کریں گے، آخری قطرہ خون تک اور ہمارا دفاع ان کے لیے دردناک ثابت ہوگا۔انہوں نے یہ بھی خبردار کیا کہ وہ ممالک جو ایران کے خلاف کسی بھی ممکنہ جارحیت میں معاونت فراہم کرتے ہیں یا فراہم کر سکتے ہیں، وہ جائز ہدف ہوں گے۔ ایران نے ٹرمپ کی دھمکی پر جواب دیا ہے کہ اگر ہم پر حملہ ہوا تو مشرق وسطیٰ میں قائم امریکی فوجی اڈّوں اور تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران کا یہ ردعمل اْس وقت سامنے ا?یا جب صدر ٹرمپ نے ایرانی مظاہرین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ مدد بس راستے ہیں، آئینی اداروں پر قبضہ کرلیں۔یرانی حکام نے نہ صرف امریکا کو جواب دیا بلکہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، ترکیہ اور مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک کو بھی مطلع کیا کہ امریکہ نے حملہ کیا تو ان ممالک میں موجود امریکا کے فوجی اڈّے اور تنصیبات کو بھی دشمن سمجھا جائے گا۔ایرانی حکام نے مشرق وسطیٰ کے ان ممالک سے مقامی انٹیلی جنس کو متحرک اور سیکیورٹی اداروں کو چوکنا رکھنے کی درخواست کی ہے تاکہ امریکا ان فوجی اڈوں کو ایران پر حملے کے لیے استعمال نہ کرے۔
ایران