بھارت میں جنونی مذہبی ایجنڈااوراس کا عالمی اثر

سمیع اللہ ملک

برطانوی حکومت کی جاری کردہ ایک لیک رپورٹ کاتجزیہ کیاگیاہے،جس میں انتہاپسندی کی بڑھتی ہوئی لہرکے اثرات نے مختلف سیاسی،سماجی اورثقافتی گروپوں کومتاثرکیاہے اور نسوانی دشمنی،ہندو قوم پرستی اور’’مینوسفیئر‘‘کوانتہاپسندی کے نئے ذرائع کے طورپرشناخت کیاگیاہے۔یہ رپورٹ گزشتہ موسم گرمامیں ہونے والے فسادات کے بعدتیارکی گئی تھی اوراس میں ان عوامل کاذکر کیاگیاہے جومعاشرتی عدم استحکام اورانتہا پسندی کی طرف لوگوں کومائل کرتے ہیں۔
گزشتہ موسم گرما کے فسادات کے بعد ’’یوویٹ کوپر‘‘کی طرف سے افشا رپورٹ میں ہندو قوم پرستی، بد عنوانی اور ’’مینوسفیر‘‘کوانتہاپسندی کی افزائش کی بنیادوں کے طورپرشناخت کیاگیاہے۔’’یوویٹ کوپر‘‘ایک برطانوی سیاست دان ہے۔لیبرپارٹی کے رکن، کوپر 1997سے پونٹیفریکٹ، کیسل فورڈ اور ناٹنگلی، اس سے قبل نارمنٹن، پونٹیفریکٹ اور کیسل فورڈ کیلئے پارلیمنٹ (ایم پی)کے رکن رہے ہیں اورجولائی2024سے ہوم سیکرٹری کے طورپربھی خدمات انجام دیں ہیں۔ہوم سکریٹری کے’’تیز تجزیاتی اسپرنٹ‘‘نے’’درجہ دوم کی پولیسنگ‘‘کے دعوؤں کوبھی’’دائیں بازوکے انتہاپسند بیانیہ‘‘کے طورپر مستردکردیاہے۔اس کے استدلال کے مطابق حکام کوبنیادی طورپر’’تشویش کے نظریات"پروسائل کو مرکوزکرنے کی بجائے انتہا پسندی پرقابوپانے کیلئے‘‘رویے پرمبنی اورنظریاتی طورپر’’حقیقی اپروچ‘‘اپنانی چاہیے۔
دائیں طرف جھکارکھنے والے تھنک ٹینک پالیسی ایکسچینج کی طرف سے یہ لیک رپورٹ انتہاپسندی کے بارے میں حکومت کے نقطہ نظرکی گہری جانچ پڑتال کے درمیان سامنے آئی ہے کہ انسداد دہشتگردی کے افسران کویقین نہیں تھاکہ ساتھ پورٹ کے قاتل ایکسل روڈاکوباناکے’’بنیادپرستی کے خطرے‘‘کاسامناہے۔کوپر نے اگست میں تیزی سے جائزہ لیتے ہوئے پہلی باراس نے 2022میں لیسٹر میں بدامنی کے بعدہندوقوم پرست انتہاپسندی،اورہندوتواکوتشویش کے نظریات کے طورپرشناخت کیاتھا۔انہوں نے اپنی رپورٹ میں لکھاہے کہ’’ہندوقوم پرست انتہاپسندی ایک ایساانتہاپسندنظریہ ہے جوہندوبالادستی کی وکالت کرتاہے اورہندوستان کوایک نسلی مذہبی ہندوریاست میں تبدیل کرناچاہتاہے‘‘۔ رپورٹ میں کہاگیاکہ ہندوتواہندوازم سے الگ ایک سیاسی تحریک ہے جو ہندوستانی ہندوں کی بالادستی اورہندوستان میں یک سنگی’’ہندوراشٹر‘‘یاریاست کے قیام کی وکالت کرتی ہے۔برطانیہ میں ہندواور مسلم کمیونٹیزکے درمیان کشیدگی اب بھی واضح ہے اورلیسٹرکے واقعات یہ ظاہرکرتے ہیں کہ کس طرح غلط معلومات آف لائن کارروائی میں کرداراداکرسکتی ہیں۔یادرہے کہ گارڈین نے پانچ ماہ قبل بھی ایسی ہی رپورٹ شائع کی تھی جس میں انتہاپسندی کی وجوہات اوراس کے پیچھے ایسے ہی عوامل کی نشاندہی کی تھی۔
معاملے کی سنگینی کایہ عالم ہے کہ ایک مرتبہ پھررپورٹ میں انتہاپسندی کے روایتی تصورکوچیلنج کیاگیاہے۔حکومت کے مطابق،اب انتہاپسندی کوصرف نظریاتی سطح پرنہیں دیکھا جاناچاہیے بلکہ اس کے ساتھ لوگوں کے رویوں اورسرگرمیوں پرتوجہ دی جانی چاہیے۔حکومت کامقف ہے کہ انتہاپسندی کی روک تھام کیلئے’’آئیڈیالوجی کی بجائے رویے اور سرگرمیوں‘‘کوہدف بنایا جائے۔اس سے مرادیہ ہے کہ انتہا پسندی کی تشخیص صرف کسی خاص نظریے یاآئیڈیالوجی پرمبنی نہیں ہونی چاہیے بلکہ ان سرگرمیوں کوبھی زیرغورلایاجائے جو عوامی سطح پرنقصان دہ ثابت ہوسکتی ہیں۔
رپورٹ میں نسوانی دشمنی کوانتہاپسندی کے ایک اہم عنصرکے طورپرشناخت کیاگیاہے۔’’مینوسفیئر‘‘ایک آن لائن سب کلچرہے جس میں نسوانی دشمنی پرمبنی موادکی بھرمارہے۔اس سب کلچرمیں مختلف کمیونٹیزشامل ہیں،جیسے کہ مردوں کے حقوق کے کارکن، پِک اپ آرٹسٹس’’مردجواپنے راستے پرچلتے ہیں‘‘اورانسیلز(غیراختیاری عزلت پسند)۔یہ تمام گروہ نسوانیت کے خلاف انتہائی نظریات پیش کرتے ہیں اوربعض اوقات دائیں بازوکی انتہا پسندآئیڈیالوجی کوبھی شامل کرتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق،ان گروپوں میں نسلی تفاوت اورعالمی نوعیت کی نظریات کی مخالفت کی جاتی ہے۔’’’مینوسفیئر‘‘‘میں ایسے بیانیے پائے جاتے ہیں جوافرادکوعزلت میں ڈالنے، معاشرتی تعلقات کے بارے میں منفی رویے اپنانے،اورخواتین کے حقوق کے خلاف متشددخیالات کوفروغ دیتے ہیں۔خاص طورپر’’’انسیلز‘‘کی جانب سے ایک قسم کی معاشرتی تنہائی اورخواتین سے متعلق منفی خیالات کا پرچار کیاجاتاہے۔
رپورٹ میں ہندوقوم پرستی اورہندوتواکوبھی انتہاپسندی کے خطرات کے طورپرذکرکیاگیاہے۔2022میں لیسٹرکے فسادات کے بعد ہندوقوم پرستی کوایک نیانظریہ قراردیاگیاجوبھارت میں ہندوریاست کے قیام کی حمایت کرتاہے۔ہندوتواکی تحریک ایک ایسی سیاسی متشددتحریک ہے جوہندوں کے غلبے اوربھارت میں ایک یکساں ہندوریاست کے قیام کاپرچارکرتی ہے۔رپورٹ میں واضح طورپر کہاگیا ہے کہ ہندوقوم پرستی کی شدت پسندی برطانیہ میں مسلمانوں کے ساتھ تناکوبڑھارہی ہے،اوریہ فرقہ وارانہ تشویش کاباعث بن سکتی ہے۔اس کے علاوہ،رپورٹ میں اس بات کابھی ذکرکیاگیاہے کہ"دائیں بازوکی انتہاپسندبیانیے" کے پیچھے عالمی نوعیت کی تحریکوں جیسے کہ عالمی کاری اور کثیرالثقافتیت کونشانہ بنایاجاتاہے۔
رپورٹ میں حکومتی پالیسی میں تبدیلی کی تجویزدی گئی ہے تاکہ انتہاپسندی کی روک تھام کیلئے زیادہ جامع اورمثرحکمت عملی اپنائی جاسکے۔حکومت کامؤقف ہے کہ انتہاپسندی کی نشاندہی ’’صرف مخصوص آئیڈیالوجیز‘‘پرنہیں بلکہ’’رویوں‘‘اور’’عملوں‘‘کی بنیادپرکی جانی چاہیے۔اس سے مرادیہ ہے کہ معاشرتی سطح پرموجودتشویش کے ذرائع کونظراندازنہ کیا جائے۔رپورٹ میں ایک اوراہم تجویز پیش کی گئی ہے جس کے تحت’’نیشنل سینٹرآف ایکسیلنس‘‘قائم کرنے کی ضرورت پرزوردیاگیاہے،جس کامقصد احتجاج اورکم سطح کی انتہا پسندی کی سرگرمیوں کی نگرانی اوران کاتدارک کرناہوگا۔اس تجویزمیں حکام کو’’احتجاج اورکم سطح کی انتہاپسندی کی تحقیقات کیلئے ایک مرکزی تحقیقاتی مرکز‘‘قائم کرنے کی ضرورت پرزوردیاگیاہے تاکہ مختلف نوعیت کی انتہا پسندی کی سرگرمیوں کوجلدازجلدروکاجاسکے۔
مجموعی طورپر،یہ رپورٹ برطانیہ میں انتہاپسندی کے بڑھتے ہوئے خطرات کی نشاندہی کرتی ہے اوران نئے ذرائع کی جانب توجہ دلاتی ہے جومعاشرتی استحکام کونقصان پہنچاسکتے ہیں ۔نسوانی دشمنی،ہندوقوم پرستی اورمینوسفیئرجیسے عوامل برطانیہ کے معاشرتی تانے بانے کومتاثرکررہے ہیں اورانتہاپسندی کے نئے راستے کھول رہے ہیں۔حکومتی سطح پرپالیسی میں تبدیلی کی ضرورت ہے تاکہ ان مسائل پرمؤثرطریقے سے قابوپایاجاسکے اورمعاشرتی ہم آہنگی کوفروغ دیاجاسکے۔دنیاکی سب سے بڑی جمہوریت کادعوی کرنے والے بھارت میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف ہونے والے حملے ایک سنگین مسئلہ بن چکے ہیں۔بی جے پی کی ہندوقوم پرست حکومت کے تحت اقلیتوں کومسلسل دباؤاورتشددکاسامناہے۔ مسلمانوں، سکھوں،عیسائیوں اور دیگراقلیتوں کونہ صرف سماجی اوراقتصادی سطح پرامتیازی سلوک کاسامناکرناپڑابلکہ ان پرمتعددمنظم حملے اب بھی جاری ہیں۔
اس تحقیقی تجزیے میں بھارت میں مذہبی جنونیت اورانتہا پسندی کی تاریخ ایک دردناک حقیقت ہے،جس میں اقلیتی گروپوں کو مسلسل تشدداورمظالم کاسامناکرناپڑرہاہے۔گجرات کے فسادات میں مسلمانوں کے قتل عام،کشمیرمیں انسانی حقوق کی پامالی،بابری مسجدکی منہدمی،کشمیرمیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں،اورسکھوں کے خلاف آپریشن بلیواسٹارمیں سکھوں کی نسل کشی جیسے واقعات بھارت کی مذہبی جنونیت کی تاریخ کوعیاں کرتے ہیں۔ ان تمام واقعات کے پیچھے مذہبی انتہاپسندی کی سوچ کارفرماہے،جونہ صرف بھارت میں اقلیتی برادریوں کونشانہ بناتی ہے بلکہ عالمی سطح پربھی بھارت کی تصویرکومتاثرکرتی ہے۔بھارتی حکومت کی جانب سے ان مسائل کونظراندازکرنااوران کے خلاف مؤثرکاروائی نہ کرنا اس بات کاغمازہے کہ بھارت میں مذہبی جنونیت ایک سنگین مسئلہ بن چکاہے جس کے حل کیلئے عالمی برادری کوبھی مزیدفعال کرداراداکرنے کی ضرورت ہے۔
بھارت میں مذہبی جنونیت اورانتہاپسندی نے کئی دہائیوں سے مختلف اقلیتی برادریوں کوشدیدمتاثرکیاہے۔خاص طورپرمسلمانوں، عیسائیوں اورسکھوں کومذہبی شدت پسندی کانشانہ بنایاگیاہے،جس کااثربھارت کی داخلی سیاست اورعالمی شہرت پربھی پڑاہے۔ گجرات کے فسادات،کشمیرمیں انسانی حقوق کی پامالی،اوردیگربڑے فسادات بھارت میں مذہبی جنونیت کی ایک افسوسناک تاریخ کوپیش کرتے ہیں۔
بھارت میں ہندوقوم پرستوں کی جانب سے بابری مسجدکو1992میں منہدم کیاگیا،جس کامقصدمسلمانوں کی مذہبی شناخت کومٹانااور ایک’’ہندوراشٹر‘‘کے خواب کوحقیقت بناناتھا ۔اس عمل میں ہزاروں مسلمانوں کوقتل کیاگیااورمسلمانوں کی مقدس عبادت گاہ کوتباہ کر دیاگیا۔اس کے بعدبھارتی حکومت کی جانب سے مزیدایک ہزارمساجدکوگرانے اوروہاں ہندومندربنانے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ یہ اقدامات نہ صرف مسلمانوں کی مذہبی آزادی کے خلاف ہیں بلکہ بھارت کے مذہبی ہم آہنگی کے اصولوں کوبھی چیلنج کرتے ہیں ۔ بھارتی حکومت کی طرف سے ان اقدامات کی حمایت نے ملک میں فرقہ وارانہ کشیدگی اورمسلم کمیونٹی کے خلاف شدیدنفرت کو ہوادی ہے۔
گجرات کے2002کے فسادات کوبھارت کے سب سے بدنام مسلم کش فسادات کے طورپرجاناجاتاہے۔ان فسادات میں ہزاروں مسلمانوں کاایک منظم منصوبہ بندی کے تحت بے رحمی سے قتل عام کیاگیا،ان کی جائیدادوں کوآگ لگادی گئی،اوران کے مکانات اورکاروبارکوتباہ کردیاگیا۔(جاری ہے)