بھارت میں جنونی مذہبی ایجنڈااوراس کا عالمی اثر

سمیع اللہ ملک (آخری قسط)

یہ فسادات نہ صرف بھارت کے مسلمانوں کیلئے ایک شدیدانسانی المیہ بنے بلکہ دنیابھرمیں بھارت کے مذہبی شدت پسندوں کی طرف سے اقلیتی گروپوں پرظلم وستم کوبے نقاب کیا۔اوراس وقت کے وزیراعلی نریندرمودی پرالزامات عائدکیے گئے کہ انہوں نے ہندوشدت پسندوں کوکھلی چھوٹ دی جس کی انہوں نے آج تک تردیدنہیں کی۔فسادات میں مسلمانوں کے ساتھ نہ صرف جسمانی تشددکیاگیا،بلکہ ان کی نسلی ومذہبی شناخت کوبھی نشانہ بنایاگیا۔عورتوں کی اجتماعی عصمت دری،بچوں کاقتل اورمسلمانوں کے ساتھ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کی گئیں۔ان فسادات میں بھارتی حکومت کی غفلت اورسیاسی قیادت کی جانب سے شدت پسندی کی پشت پناہی نے اس المیہ کومزیدبڑھادیا ۔
18فروری2007کوسمجھوتہ ایکسپریس،جوبھارت اورپاکستان کے درمیان چلنے والی امن ٹرین تھی،کوایک منظم سازش کے تحت بم دھماکوں کے ذریعے جلادیاگیا۔اس واقعے میں 68افرادہلاک ہوئے،جن میں زیادہ ترپاکستانی شہری تھے۔بھارتی فوج کے کرنل پروہت اوردیگرہندوانتہاپسندوں پراس حملے کاالزام عائدکیاگیا۔کرنل پروہت کوگرفتارکیاگیا اور اس نے اعتراف جرم بھی کیالیکن نہ صرف بھارتی حکومت نے قوم پرست تنظیموں کے دباؤمیں آکراسے بری کردیابلکہ کرنل پروہت اوراس کے ساتھیوں کوانتہائی مشکل حالات میں تحقیق کرنے کے بعدجس پولیس افسرنے ان کوگرفتارکیاتھا،اس کوبھی ایک سازش کے تحت ممبئی میں ہونے والے ایک حملے کے دوران اسے پیچھے سے گولی مارکرریاست
کی پولیس کوواضح پیغام دیاگیاکہ آئندہ ان کی جماعت کے کسی بھی فردکوگرفتارکرنے کی کیاسزاہوسکتی ہے۔اس واقعے نے بھارت میں ہندوانتہاپسندی اورریاستی اداروں کے تعلقات کوبے نقاب کردیاہے۔
کشمیرمیں ہونے والی ان انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کبھی نہیں کی گئیں،اوربھارتی حکومت نے ان واقعات پر پردہ ڈالنے کی پوری کوشش کی۔یہاں تک کہ بھارتی حکومت نے کشمیری مسلمانوں کے بنیادی حقوق اورآزادی کی آوازکودبایااور ان کی آوازکوعالمی سطح پربے اثرکردیا۔کشمیرمیں گزشتہ کئی دہائیوں سے بھارتی فورسزکی جانب سے مسلمانوں کے خلاف شدید ظلم وستم جاری ہے اوربھارتی حکومت پرکشمیرمیں بڑے پیمانے پرانسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات ہیں۔1989سے لے کراب تک ایک لاکھ سے زائدکشمیری شہیدکیے جاچکے ہیں،ہزاروں خواتین کی عصمت دری کی گئی اورہزاروں نوجوانوں کو گرفتارکرکے غیرقانونی طریقے سے قتل کردیاگیا۔جس میں ماورائے عدالت قتل،لاپتہ افراد،اوراجتماعی قبروں کاانکشاف شامل ہے۔ ایک امریکی ہندواسکالرخاتون نے کشمیرمیں درجنوں اجتماعی قبروں کاانکشاف کرتے ہوئے ایک تفصیلی رپورٹ جاری کی تھی۔ بھارتی سیکیورٹی فورسز کے ذریعے کشمیر میں جابرانہ پالیسیاں اور مظالم روز بروز بڑھ رہے ہیں، درجنوں مرتبہ عالمی انسانی حقوق تنظیموں نے شواہدکے ساتھ ان تمام مظالم کورپورٹ کیاہے لیکن انسانی حقوق کی چیمپئن ہونے کادعویدارامریکااوراس کے اتحادی محض اس لئے خاموش ہیں کہ وہ انڈیاکو’’کواڈ‘‘اتحادکے ذریعے چین کے محاصرے کیلئے استعمال کرناچاہتے ہیں اور مودی اس کمزوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اقلیتوں کی نسل کشی کرنے والی اپنی جماعت بی جے پی کے ان مظالم پرنہ صرف خاموش ہے بلکہ اس خاموشی کی آڑمیں حکومتی ادارے بھی ان کے خلاف کسی بھی قسم کی کاروائی سے خوفزدہ ہیں۔
گجرات کے فسادات کے بعدخاص طورپرمودی حکومت کے دوران بھارت میں عیسائی برادری کوبھی حملوں کاسامناکرناپڑرہاہے، کئی چرچ نذرِآتش کیے گئے،ننزکوزیادتی کانشانہ بنایاگیا،اور پادریوں کوزندہ جلادیاگیا۔2008میں اڑیسہ میں ہونے والے فسادات میں مزیدکئی عیسائیوں کوہلاک کردیاگیااوران کے گھرتباہ کردئیے گئے۔مذہبی شدت پسندی کایہ پہلوظاہرکرتاہے کہ بھارت میں اقلیتی مذہبوں کے خلاف تشدد ایک وسیع پیمانے پرپھیل چکاہے،جونہ صرف مسلمانوں تک محدودہے بلکہ عیسائی برادری بھی اس کاشکارہے۔یہ سلسلہ اب بھی گاہے بگاہے جاری ہے لیکن مودی پریس ان خبروں کوشائع نہیں ہونے دیتااورنہ ہی مودی حکومت کسی بھی بیرونی پریس کے نامہ نگاروں کووہاں جانے کی اجازت دیتا ہے۔اگرکوئی کسی طرح بھیس بدل کروہاں پہنچ جائے تووہاں بی جے پی کے لوگ ان کی جان لینے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔
مذہبی جنونیت کی ایک اورشکل بھارت میں جبرامذہب تبدیلی کی کوششوں کی صورت میں ظاہرہوئی ہے۔عیسائیوں اورمسلمانوں کو جبراًہندو بنانے کی کوششیں کی جارہی ہیں،جس میں ان اقلیتی گروپوں کواپنے مذہب سے دستبردارہونے اورہندومذہب اختیارکرنے کیلئے دباڈالاجارہاہے۔یہ عمل نہ صرف بھارت کے آئین کی خلاف ورزی ہے بلکہ مذہبی آزادی اورانسانی حقوق کی بنیادی اقدار کے بھی منافی ہے۔بھارتی حکومتی اداروں کی جانب سے ان واقعات کی کوئی مثر تحقیقات اورانصاف فراہم کرنے کی بجائے،ان واقعات کودبایاگیااوران حملوں کے پس پردہ نظریات کی حوصلہ افزائی کی گئی،جس کے نتیجے میں مذہبی جنونیت میں اضافہ ہوا اوراقلیتی گروپوں میں خوف وہراس کی فضاقائم ہوئی۔
بھارت میں سکھوں کی تاریخ بھی مذہبی جنونیت سے متاثرہے،خاص طورپر1984میں بھارتی حکومت نے آپریشن بلیواسٹارکے تحت سکھوں کی مقدس عبادت گاہ دربارصاحب امرتسرپرحملہ کرکے نہ صرف اس مذہبی عبات گاہ کوبری طرح  بمباری کرکے نقصان پہنچایاگیابلکہ ہزاروں سکھوں سمیت سکھوں کے روحانی لیڈ’’ربھنڈراانوالا‘‘کوبھی قتل کردیا گیا ۔ اس کے بعد سکھوں کے خلاف ملک بھر میں فسادات بھڑکائے گئے جن میں دہلی اوردیگرشہروں میں ہزاروں سکھوں کوقتل کردیاگیا۔سکھوں کے خلاف کیے گئے قتل عام کے دوران یہ واقعہ اس بات کی غمازی کرتاہے کہ بھارت میں مذہبی اقلیتوں کونشانہ بناناایک معمول بن چکاہے۔دو لاکھ سکھوں کوبے دردی سے قتل کیاگیااوران پرتشددکی انتہاکردی گئی،صرف اس لیے کہ انہوں نے اپنے حقوق کامطالبہ کیاتھا اور عالمی سطح پر علیحدہ ریاست کے حق کادفاع کیاتھا۔بھارتی حکومت نے اس قتل عام کے بعدبھی کوئی مؤثراقدامات نہیں کیے اور ان مظالم کی تفتیش کودبادیاگیا۔
موجودہ بی جے پی حکومت کے جبرکے خلاف بھارت میں کئی علیحدگی پسندتحریکیں سرگرم ہیں،جن میں خالصتان تحریک،ناگا لینڈ،آسام کی علیحدگی اور تمل ناڈو کی آزادی کی تحریکیں شامل ہیں۔ان کودبانے کیلئے بھارتی حکومت طاقت کابے دریغ استعمال کر رہی ہے۔گزشتہ چند برسوں میں بھارت بیرون ملک اپنے سیاسی حریفوں کوقتل کرانے کی جرائم کا ارتکاب بھی کررہاہے۔حالیہ مثال کینیڈا میں سکھ لیڈرہردیپ سنگھ نجرکے قتل کی ہے،جس پرکینیڈاکی حکومت نے بھارتی خفیہ ایجنسی’’را‘‘پرالزام عائدکرتے ہوئے ثبوتوں کے ساتھ بھارت سے جواب طلب کیاہے۔اسی طرح امریکہ میں بھی بھارتی خفیہ ایجنسی کی سازشیں بے نقاب ہوچکی ہیں، جس پرامریکی حکومت نے بھارت کوسخت وارننگ جاری کی ہے۔
بھارت پرالزام ہے کہ وہ کرائے کے قاتلوں کوپاکستان میں بھی دہشتگردانہ کاروائیوں کیلئے استعمال کرتاہے۔بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیوکی گرفتاری اس بات کاواضح ثبوت ہے کہ بھارت،پاکستان میں تخریبی کارروائیوں میں ملوث ہے اوریہ بھی حقیقت ہے کہ جب قصرسفید کے فرعون کے احکام پرپاکستان کافاسق کمانڈومشرف امریکاکومکمل اعانت فراہم کررہا تھا،اسی وقت امریکا ایک خاص سازش کے تحت افغانستان میں انڈیاکوپاکستان میں دہشتگردی کیلئے ہرقسم کی اعانت فراہم کررہاتھاجوآج بھی جاری ہے۔
بھارت میں اقلیتوں پرہونے والے حملے اورانسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں عالمی برادری کیلئے لمحہ فکریہ ہیں۔گجرات، سکھ نسل کشی،عیسائیوں پرحملے،کشمیرمیں بربریت،اور بیرون ملک کینیڈا،امریکااورپاکستان میں دہشتگردی جیسے معاملات سے یہ واضح ہوتاہے کہ جہاں بھارت میں اقلیتوں کیلئے حالات نہایت خطرناک ہوچکے ہیں اورانسانیت دم توڑ رہی ہے وہاں بیرونِ ملک بھارتی دہشتگردی کے نتیجے میں دنیاکبھی بھی مکمل تاریک ہونے کے خطرے سے دوچارہوسکتی ہے۔اب یہ اقوامِ عالم کے ان باشعورافرادکی ذمہ داری ہے کہ اس خوبصورت دنیاکوبچانے اوراپنی آئندہ آنے والی نسلوں کوایک خوشحال اورمصائب سے پاک دنیادینے کیلئے اپنافرض ادا کریں۔
آخر میں اپنے آقا رسول اکرم ﷺ کے ارشاد گرامی پر اپنی بات ختم کرتا ہوں:
اپنے بھائی کی مددکروخواہ وہ ظالم ہویامظلوم۔ صحابہ نے عرض کیا،یارسول اللہﷺ!ہم مظلوم کی تومدد کرسکتے ہیں لیکن ظالم کی مددکس طرح کریں؟ آپ ﷺنے فرمایاکہ ظلم سے اس کاہاتھ پکڑلو(یہی اس کی مددہے)۔(بخاری:444)