وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا ثنا اللہ نے پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے اہم بیان دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے رہنماؤں کو سیاسی قیدیوں کی فہرست فراہم کرنی ہوگی تاکہ ان پر حکومتی کمیٹی سے مشاورت کی جا سکے۔ رانا ثنا اللہ نے واضح کیا کہ جب پی ٹی آئی تحریری مطالبات پیش کرے گی، تو ان پر پارٹی اور اتحادیوں کے ساتھ بحث کے بعد جواب دیا جائے گا۔رانا ثنا اللہ نے کہا کہ جمہوری اور سیاسی نظام میں مذاکرات بہت ضروری ہیں اور وہ ہمیشہ مذاکرات کے حامی رہے ہیں، چاہے وہ حکومت میں ہوں یا اپوزیشن میں۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے تحریری مطالبات پیش کرنے کے بعد ان پر غور کیا جائے گا اور ان کے جوابات کے لیے ایک جامع اور تفصیلی حکمت عملی تیار کی جائے گی۔رانا ثنا اللہ نے جوڈیشل کمیشن کے قیام کے حوالے سے پی ٹی آئی کی جانب سے اٹھائے جانے والے سوالات پر بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی اگر جوڈیشل کمیشن کا مطالبہ کر رہی ہے تو اس کے ٹی او آرز (ٹرمنز آف ریفرنس) اور اس کمیشن کے اختیارات پر بات کرنا ضروری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ کب تک پیش کی جائے گی اور اس کے سربراہ کا انتخاب کس طرح کیا جائے گا، ان تمام باتوں پر واضح موقف اختیار کرنا ضروری ہے۔ایک سوال کے جواب میں رانا ثنا اللہ نے کہا کہ پی ٹی آئی والے جن لوگوں کو سیاسی قیدی سمجھتے ہیں، ان کی فہرست اور اسٹیٹس پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ سادہ نہیں ہے اور اس پر وقت لگ سکتا ہے کیونکہ کچھ افراد نے شاید دیگر جرائم کا ارتکاب کیا ہو۔رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ان تمام معاملات پر تسلی اور تحمل کے ساتھ بات چیت کی جائے گی اور کوشش کی جائے گی کہ تمام فریقین کے درمیان اتفاق رائے پیدا کیا جائے تاکہ ملک میں سیاسی استحکام اور جمہوری عمل کو فروغ دیا جا سکے۔