نیویارک(آئی ا ین پی)امریکا کے گہرے اور پراسرار پہاڑوں میں ایک ایسا راز چھپے ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے جس سے لوگ صدیوں سے انجان ہیں، دعویٰ کیا گیا ہے کہ آج بھی ان پہاڑوں کے سائے میں آدم خور لِلی پٹ بونے چھپے بیٹھے ہیں جن کا خوف کسی بھی دلیر کو لرزا دے۔ یہ وہ مخلوق ہے جو نہ صرف انسانوں کو شکار کرتی ہے بل کہ اپنی اجنبی شکلوں اور خونخوار انداز کے باعث مقامی کہانیوں کا حصہ بن چکی ہے۔یہ عجیب و غریب کہانی 19ویں صدی کے ابتدائی برسوں کی ہے جب مہم جو اور پہاڑوں میں بسنے والے لوگ ان بونوں کے خونخوار قبیلوں کے بارے میں خوفناک قصے سناتے تھے۔کہا جاتا ہے کہ یہ لوگ چارفٹ یا اس سے بھی کم قد والے تھے، اور جب انہیں غصہ آتا یا کسی نے ان کی حدود کو کراس کیا تو وہ جان لے کر چھوڑتے تھے۔ ان کی تشویش ناک عادتوں میں سب سے خطرناک بات یہ تھی کہ وہ انسانوں کو شکار کرتے اور کبھی کبھار ان کے گوشت کا استعمال کرتے تھے۔ حالیہ برسوں میں کئی ماہرین نے ان پراسرار ہستیوں کی موجودگی کے شواہد جمع کیے ہیں۔کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ جنگجو شاید کسی گمشدہ نسل کی باقیات ہیں جو اس وقت سے الگ تھلگ زندگی گزار رہے ہیں اور ممکنہ طور پر آج بھی اپنی اجنبی روایات اور خونخوار طرز زندگی کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ممکن ہے کہ یہ آدم خور ِللی پٹین بونے کسی قدیم نسل سے تعلق رکھتے ہوں جو تمام تر ترقی سے الگ تھلگ رہ کر اپنی بقا ء کے لیے جنگ کرتے ہوں۔