حکمران اور عوام کے مسائل

زاہد انصاری

دو دن سے بوجہ مرمتی کام پورے شہر اور گردونواح کی گیس بند تھی لوگ نہایت پریشان تھے صبح کے وقت ناشتہ دوپہر کے وقت لنچ اور پھر رات کو ڈنر یعنی گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑ گئے اور ہوٹلوں کے مالکان کی چاندی ہونا شروع ہو گئی بلکہ یوں کہنا بھی غلط نہیں ہوگا کہ ہوٹل مالکان کا سونا بننا شروع ہو گیا ریسٹورنٹ تو ریسٹورنٹ تندور والوں کے بھی ششکے ہو گئے کم وزن روٹی کے ساتھ چنے کی دال بھی فی پلیٹ تین سو روپے تک فروخت ہونے لگی اور پاکستانی ڈرنک چائے والوں کے ریٹ بھی اچانک سے بڑھ گئے بس صاحب یوں کہہ لیجئے کہ لوگوں کو ان معزز ڈاکوؤں نے بغیر کسی اسلحہ کے دونوں ہاتھوں سے لوٹا اور یہ وہ وارداتیں تھیں جن کا مقدمہ سوائے اللہ کی عدالت کے دنیا کے کسی گرانے میں درج نہیں ہو سکتا تھا میں نے بچشم خود دیکھا کہ بہت سے سفید پوش لوگ ان دو دنوں میں ہوٹلوں کے سامنے لگی اس مداری کو دیکھ دیکھ کر اور ہوٹلوں کے بڑے بڑے پتیلوں سے اٹھنے والی خوشبو کو محسوس کر کے پیٹ کی آگ بجھانے کی کوشش کرتے رہے اور اپنے بچوں کو خدا جانے کیا تسلیاں دی ہونگی خیر میرے یہ مناظر بہت تکلیف دہ تھے 
یہاں ایک واقعہ اس راجہ کا یاد آ گیا جس کی رعایا بہت خوشحال تھی کبھی کسی فریادی نے اس کے دربار کی نوبت نہیں بجائی تھی کبھی کوئی فریادی بادشاہ سلامت کے پاس کوئی شکایت لے کر نہیں آیا تھا سو ایک دن بادشاہ سلامت نے اپنے وزیر خاص کو بلایا اور کہا کہ میں بادشاہ ہوں اور میرے دربار میں اس قدر خاموشی اور ویرانی سے میں اکتا چکا ہوں کبھی کوئی فریادی میرے پاس اپنا مسئلہ لے کر نہیں آیا تو اے مشیر خاص کچھ ایسا کرو کہ مجھے اپنے بادشاہ ہونے کا احساس زندہ ہو اور تخت شاہی پہ بیٹھ کر فریادیوں کی فریادیں سنوں اور اور میرے وزیر مشیر میرا حکم بجا لائیں اور میرے دربار میں ایک میلے کا سماں بندھ جائے
مشیر خاص نے بادشاہ سلامت کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے اگلے روز شہر کے کوتوال کو بلایا اور اسے بولا کہ شہر کے ہر موڑ پر ہر چوک میں سپاہی کھڑے کر دئیے جائیں جو صبح صبح اپنی نوکریوں پہ جانے والے لوگوں کو پانچ پانچ جوتے ان کے سر پر ماریں کوتوال نے مشیر خاص کے حکم کی بجا آوری کرتے ہوئے اگلی ہی صبح عملدرآمد شروع کر دیا شہر کے ہر موڑ پر ہر چوک پر سپاہیوں نے عوام الناس کو جوتے مارنا شروع کر دئیے بس پھر دو دن ہی یہ عمل کرنا پڑا کہ شاہی محل کی نوبت زور زور سے بجنا شروع ہو گئی شاہی دربار فریادیوں سے کھچا کھچ بھر گیا دہائی ہے دہائی ہے کی آوازیں بلند ہوئیں اور بادشاہ سلامت کو دہائی دہائی کی آوازیں کسی راگ ملہار سے کم لطف نہیں دے رہی تھیں بادشاہ سلامت اپنے پورے جاہ و جلال کے ساتھ تخت شاہی پہ آ بیٹھے اور فریادیوں سے ان کا مسئلہ بیان کرنے کی اجازت دی تو تمام فریادی بیک آواز چلانا شروع ہوئے کہ جان کی امان چاہتے ہوئے عرض گزار ہیں کہ صبح صبح اپنی اپنی نوکریوں پہ جاتے ہوئے جہاں پناہ کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے ہم خوشی خوشی جوتے کھاتے اور برداشت کرتے ہیں مگر اب ہماری نوکریاں جانے کا خطرہ اسقدر بڑھ چکا ہے کہ ہمیں خوف کہ ہمارے چولہے ٹھنڈے پڑ جائیں گے اور ہم بھوک اور افلاس میں مبتلا ہو جائیں گے کیونکہ جوتے کھاتے وقت بہت لمبی لمبی قطاریں لگ 
جانے کی وجہ سے دفتری وقت گزر جاتا ہے لہٰذا ہماری آپ سے درخواست ہے کہ کوتوال شہر کو حکم صادر فرمایا جاوے کہ جوتے مارنے والے ملازمین میں اضافہ کرے تاکہ وقت اور نوکری بچائی جا سکے
تو قارئین یہ بات سچ ہے کہ ہم وقت بچانا چاہتے ہیں اس کے علاوہ ہماری ہر چیز داو پر لگی ہوئی ہے جس کی ہمیں ذرہ برابر بھی پرواہ نہیں ہے
گیس کی دو دن کی بندش نے معزز تاجروں اور ماتھے پہ لگے سیاہ دھبوں والے دکانداروں کے چہرے بہت واضح نظر آئے اور خوفزدہ بھی ہوں کہ چند روز بعد بابرکت ماہ رمضان شروع ہونے والا ہے اور مسلمان مسلمانوں کے ساتھ جو سلوک کریں گے وہ ہر سال کی طرح امسال بھی ہوگا لہٰذا قارئین میری آپ سے ، تاجر برادری سے اور حکومت وقت سے گزارش ہے کہ آسانیاں بانٹیں تاکہ ہم سب کو آسانیاں میسر آ سکیں کیونکہ یہی قانون فطرت ہے کہ جو بوئیں گے وہی کاٹیں گے جو دیں گے وہی پلٹے گا