اسلحہ لائسنس کے مسائل اور حکومت

بختیار علی سیال
۔۔۔۔ اسلحہ لائسنس کے مسائل میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے جس سے عوام پریشان ہیں اور حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے ریاست کیپاشندوں کے بنیادی حقوق ہوتے ہیں جس کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے چند سال قبل حکومت بے حکم دیا کہ لائیسنس کمپیوٹرائزڈ کرایا جائے چنانچہ حسب ضابطہ کمپیوٹرائزڈ لائیسنس کے لئے درخواستیں دیں اور لائیسنس جمع کرا دئیے۔اسلحہ کی تجدید کے لئے بنائے گئے اسلحہ لائیسنس اجراء￿  کے دفاتر کو ڈھونڈنا بھی ایک مشکل مرحلہ تھا کہ ان اسلحہ کی برانچز کو ضلع کچہری سے دیس نکالا دے دیا گیا تھا۔اس دوران ایک رسید جاری بھی کی  گئی۔اب وقتا "فوقتا" اس دفتر کے چکر لگنے لگے اور ان رسیدات پر ایکسٹینشن کی مہر اور دستخط کروائے جاتے رہے۔چار سال بعد بصد بدقت پانچ سال کے لئے اسلحہ لائیسنس  جاری ہوئے جو پنجاب تک محدود تھے۔ فیس فی لائیسنس پانچ ہزار جبکہ دیگر اخراجات کورئیر وغیرہ اس کے علاوہ تھے۔پاکستان میں لائیسنسی اسلحہ  کی یہ خاصیت ہے کہ اسے صرف اپنے گھر میں تخلیہ میں دیکھ سکتے ہیں۔اس کو ساتھ لیکر چلنا گاڑی میں رکھنا یانمائش جیل یاترا کا سبب بن سکتی ہے۔جس کی وجہ سے عدم توجہی کے سبب ویپن/اسلحہ زنگ آلود ہو کر ناکارہ ہو جاتا ہے جبکہ گولیاں وغیرہ بوسیدگی کے سبب ناکارہ ہو کر اپنے اندر پوشیدہ رازوں کو فاش کرکے خالی خولوں تک محدود رہ جاتی ہیں۔ بہرحال اس مہنگائی کے عالم میں کم از کم گولیوں کی خریداری کے خرچہ سے تو مکتی ملی ہوئی ہے۔ بہرحال ان اسلحی بوسیدہ ڈھانچوں کو دیکھ کر دل پشوری تو ہو جاتا ہے کہ مردانگی کا زیور تو رکھتے ہیں۔
قبل ازیں اسلحہ کے لائیسنسوں کی  تجدید ڈاک خانوں سے ہو جاتی تھی۔ اور لوگ خواری اور غیر ضروری زیر باری سے بچ جاتے تھے۔ حکومت نادرا کے عشق میں مبتلا ہو کر عوام کو زیر بار اور خوار کر رہی ہے۔نادرا ایک ناکارہ عوام دشمن اور عوامی خزانے پر بوجھ ادارہ ہے جس نے عوام مشکلات میں مزید اضافہ کیا ہے۔ یہ ملک کا بد ترین ادارہ ہے جو عوامی زندگی کے لئے خون چوسنے والا پیرا سائیٹ ہے۔اس نے ملک کے کئی منافع بخش اور عوام دوست اداروں کا قتل بھی کیا ہے۔پنجاب میں قائم ہونے والی گذشتہ عوام دشمن ہوائی عبوری/کیئر ٹیکر حکومت کے ناعاقبت اندیش سرمایہ دار ملک دشمن اہل اقتدار نے یک لخت اسلحہ لائیسنس کی فیس میں پانچ سو فیصد اضافہ کر دیا۔اور تجدید فیس نان پرو ہبٹڈ پانچ ہزار روپے سالانہ مقرر کر دی۔اس کے ساتھ ایک خطیر رقم کورئیر وغیرہ و دیگر اخراجات کے نام پر سال 2024 کے لئیوصول کی۔اس ظالمانہ اضافہ کے بارے میں آواز یں بلند کی گئیں۔مگر اس میں کسی حکومتی نمائندے کا شاید کوئی مفاد  نہ تھا۔لہذا یہ نقار خانے میں طوطی کی آواز کے مصداق تھی۔سال 2025 میں یہ افواہ گردش کرنے لگی کہ حکومت  عوام کی پریشانی کے پیش نظر اسلحہ لائسنس کی فیس میں کمی کرنے جا رہی ہے جس کے ساتھ اراکین اسمبلی کے لئے مفت مراعات کا پیکجز بھی محو رقص تھا۔اس سلسلہ میں سمری کے محو سفر ہونے کی نوید بھی تھی۔ پتہ نہیں اس کا کیا بنا۔اگر اس میں کوئی مقتدری دلچسپی نتھی ہوتی تو شاید یہ منزل مقصود تک پہنچ چکی ہوتی۔اگر اس مفروضہ سمری  سے کسی مقتدر،الحاقی،امدادی یا حصہ دار کا مفاد ہوتا تو چند گھنٹوں کا SRO اس کو کروڑوں، اربوں کا مفاد پہنچا کر ریاست اور عوام کو ٹیکہ لگا چکا ہوتا۔
2025 کیآغاز سے ہی یہ افواہ گردش میں تھی کہ شاید اسلحہ لائیسنس کی فیس میں تخفیف ہو جائے تاہم اس سلسلہ میں جب جب تجدید اسلحہ 
لائیسنس کرانے کو کوشش کی تو یہی جواب ملتا کہ ابھی سکیم نہیں آئی۔ماہ اپریل 2025 میں 7 اپریل کو نادرا کی طرف سے موبائل فون پر میسج ملا"معزز صارف اگر آپ نے ابھی تک اپنے کمپیوٹرائزڈ اسلحہ لائیسنس کی  تجدید نہیں کروائی تو اپنا کمپیوٹرائزڈ  اسلحہ لائیسنس کسی بھی قریبی نادرا ای سہولت نادرا سنٹر سی جلداز جلد تجدید کروا کر غیر یقینی صورتحال سے بچیں۔"اس پیغام کے بموجب نادرا ای سہولت سے تجدید اسلحہ لائیسنس کے لئے رابطہ کیا تو وہاں سے معلوم ہوا کہ اسلحہ لائیسنس کی تجدید 2026 تک ہو گی۔تجدید اسلحہ لائیسنس کی فیس 5000 روپے جرمانہ 5000 روپے  2026 کی فیس 5000 روپے کورئیر اور کارڈ وغیرہ کی فیس 2300 روپے جبکہ ای سہولت کی فیس الگ ہو گی۔اسطرح  فی اسلحہ لائیسنس تجدید فیس تقریبا  کم و بیش 17500 روپے ہو گی جو میرے تین لائیسنس ہائے کی فیس تقریبا باون ،تریپن ہزار روپے ہو گی۔ یہ سب جان کر مجھے ایک سخت قسم کا جھٹکا لگا کہ میرے جیسا سینئر سٹیزن  جو بلا پینشن بچوں کے رحم  و کرم پر زندگی  گذار رہا ہے اور اپنے فضول شوق کی خاطر حکومت کو ہر سال بلا وجہ ایک خطیر رقم ادا کر رہا ہے۔ کس طرح یہ رقم دے گا۔ یہاں تو صورت حال یہ ہے کہ مرے کو مارے شاہ مدار۔حکومت اتنی بے حس ہے کہ اسے عوام کی مشکلات اور مجبوریوں کا احساس نہیں۔ان کے تمام منصوبے اپنی مشہوری، کمیشن، ووٹروں کی خرید و فروخت کے درمیان  گھومتے ہیں جو بھکاریوں کی افزائش  کر رہے ہیں۔حکومت کے ادارے نادرا کے پاس ہر شخص کی ہر طرح کی معلومات موجود  ہیں ہر کارڈ کے ساتھ ایک ڈیٹا چپ چسپاں ہے۔وہ ہر سال میسج کے ذریعے فیس وصول کرکے ازخود  لائسنس ہائے کی تجدید کرکے اس چپ میں فیڈ کیوں نہیں کرتی یا متعلقہ شخص کی منظوری سیاس کے بنک اکاؤنٹ سے منہا کیوں نہیں کرتی۔ریاست اور اس کے اداروں کا فرض ہے کہ عوام کو  مشکلات سے بچائیں۔ان کی بچت کرکے اپنے مصائب اور مشقت میں  کمی کریں۔ لیکن محسوس ہوتا ہے کہ حکومت کا مطمع نظر ہے کہ عوام کے لئے مشکلات پیدا کرکے انھیں پریشان رکھا جائے تاکہ وہ اپنی مشکلات اور مصائب میں الجھا کر امور ریاست کی بد افعالیو ں کی طرف دھیان نہ دیں۔عوام پر ٹیکسوں کی بھر مار نے ان کا بھرکس نکال دیا ہے۔جبکہ حکومتی اور اراکین کی مراعات  میں آئے دن   کئی گنا اضافہ کیا جاتا ہے۔عام آدمی کاکم از کم معاوضہ سینتیس ہزار روپے مقرر کیا  گیا ہے جو بعض حالات میں عام لوگوں کے لئے ادا کرنا ممکن نہیں۔جبکہ زیادہ سے زیادہ معاوضہ کروڑوں تک جا پہنچتا ہے۔اس ملک میں  عام شہری  ٹیکس اور فیسیں ادا کرتا ہے۔ اگر اسلحہ لائیسنس فیس کا ہی ذکر کیا جائے تو اس ملک میں مفت خو راسلحہ لائیسنس رکھنے والوں کی تعداد بھی لاکھوں میں ہے جن کے پاس خوفناک قسم کا اسلحہ موجود ہے اورانھیں اسلحہ کے لائیسنس مفت میسر ہیں۔خدشہ ہے کہ یہ عدم مساوات عوام میں طبقاتی نفرت اور بغاوت پیدا کرے گی جو حب الوطنی اور خیر خواہی کی فضا کو ختم کر دے گی۔ اب میں نے فیصلہ کیا ہے کہ اپنے اسلحہ لائیسنس ہائے کی تجدید نہیں کراوں جو سراسر حکومتی خزانے کی آمدن میں کمی کا باعث ہو گا۔نجانے میری طرح اور کتنے لوگ ہیں جو میرے جیسی سوچ رکھتے ہیں میرے قریبی عزیزوں میں تین ایسے لوگوں کو میں جانتا ہوں جو اپنے اسلحہ لائیسنس ہائے کی تجدید نہ کروا کر سکوں حاصل کر چکے ہیں۔بلاشبہ اس سے نقصان ملک کا ہی ہے۔مگر مقتدرین کے نزدیک اپنے مفاد سے زیادہ حکومت کا مفاد عزیز نہیں۔