سینیٹ اجلاس انسانی سمگلنگ پر3 سے10سال قید تمام سیاسی جماعتوں کوپرامن جلسوں کی اجازت دینے کیلئے قرارداد منظور
تحریک انصاف سمیت تمام جماعتوں کو ملک میں پرامن جلسوں کی اجازت دینے کی قرارداد شبلی فراز نے پیش کی، قرارداد سے پارٹی کا نام نکالا جائے‘اگر ہم اس طرح کی قرارداد منظور کریں گے تو یہ درست نہیں ہوگا:وزیرقانون
بیرون ملک بھیک منگوانے میں ملوث سرغنہ کو سخت سزائیں دی جائیں گی‘ مالیاتی بل اور انکم ٹیکس ترمیمی بل بھی سینیٹ میں پیش کیا گیا جس پر تجاویز پیر تک طلب کر لی گئیں، فنانس کمیٹی تجاویز پر 10 روز میں رپورٹ پیش کرے گی
اسلام آباد(آن لائن‘آئی این پی) ایوان بالا میں پاکستان تحریک انصاف سمیت سیاسی جماعتوں کو ملک میں پرامن جلسوں کی اجازت دینے کی قرارداد کثرت رائے سے منظور کر لی،قرارداد اپوزیشن لیڈر سینیٹر شبلی فراز نے پیش کی،وفاقی وزیر قانون نے قرارداد سے پارٹی کا نام نکالنے کی درخواست کی۔جمعہ کو سینیٹ اجلاس کے دوران اپوزیشن لیڈر سینیٹر شبلی فراز کی جانب سے اے این پی کو لیاقت باغ میں جلسے کی اجازت نہ ملنے کے معاملے پر قرارداد پیش کرنے پر وفاقی وزیر قانون و پارلیمانی امور سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہاکہ ایک جنرل پالیسی ہے کہ سیکورٹی اور امن و آمان کے مسائل کی وجہ سے انتظامیہ نے لیاقت باغ کی بجائے روات میں جلسے کی اجازت دی ہے انہوںنے کہایہ صوبائی معاملہ ہے اگر ہم اس طرح کی قرارداد منظور کریں گے تو یہ درست نہیں ہوگا انہوںنے کہاکہ ہم نے ماضی میں ہولناک حادثات دیکھے ہیں ہمیں حالات کا ادراک کرنا چاہیے اس موقع پر اپوزیشن لیڈر سینیٹر شبلی فراز نے قرارداد پیش کرتے ہوئے کہا تمام سیاسی جماعتوں بشمول پی ٹی آئی کا سیاسی حق ہے پاکستان کے کسی بھی حصے میں پرامن جلسے کرسکتے ہیں تاہم اس سیاسی حق کو صوبوں کی جانب سے نہیں دیا جارہا ہے سمیت یہ ایوان مطالبہ کرتا ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں کو پاکستان کے ہر حصے میں پرامن سیاسی جلسے کرنے کی اجازت ہونی چاہیے جس پر وفاقی وزیر قانون و پارلیمانی امور نے کہاکہ قرارداد کسی پارٹی سے منسلک ہونے کی بجائے جنرل ہونی چاہیے یہ ایوان صوبائی حکومتوں کو ڈکٹیٹ نہیں کرسکتا ہے اپوزیشن لیڈر نے کہاکہ ہم کوئی غیر جمہوری اور غیر قانونی کام نہیں کر رہے ہیں اس پر ایوان سے رائے لی جائے جس پر پریذائیڈنگ آفیسر سینیٹر شیری رحمن نے کہاکہ جو بھی قرارداد اس ایوان میں آتا ہے اس پر اگر پہلے سے مشاورت ہوجائے تو بہت بہتر ہوگا اس موقع پر وفاقی وزیر قانون سینیٹربیرسٹر علی ظفر نے کہاکہ اس وقت پی ٹی آئی کو پورے ملک میں جلسے کرنے کی اجازت نہیں ہے اس موقع پر اے این پی کے پارلیمانی لیڈر سینیٹر حاجی ہدایت اللہ نے کہاکہ ہمارا جلسہ احتجاجی نہیں تھا بلکہ یہ اس مملکت کی آزادی کیلئے قربانیاں دینے والے ہمارے سیاسی اکابرین کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے تھا انہوں نے کہاکہ ہم عدم تشد د کے حامی ہیں انہوںنے کہاکہ ان دو عظیم ہستیوں کی برسی کے حوالے سے یہ اجتماع ہورہا تھا انہوںنے کہاکہ بتایا جائے کہ پنجاب پاکستان کے اندر نہیں ہے تو ہم نہیں آئیں گے اس موقع پر پریذائیڈنگ آفیسر نے قرارداد کو کثرت رائے کی بنیاد پر منظور کر لیا‘سینیٹ نے انسانی سمگلنگ کی روک تھام، بیرون ملک بھیک مانگنے اور نوعمر لڑکیوں کو جسم فروشی کیلئے بیرون ملک بھجوانے میں ملوث افراد کو سخت سزائیں دینے سے متعلق تین اہم بلز منظور کر لئے۔سینیٹر شیری رحمان کی زیر صدارت سینیٹ کا اجلاس ہوا جس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے تینوں بلز پیش کئے، تینوں بلز متفقہ طور پر منظور کر لئے گئے جبکہ کسی رکن نے مخالفت نہیں کی۔بل پیش کرنے سے قبل وفاقی وزیر اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ غیر قانونی تارکین وطن لے جانے والی کشتیوں کے مسلسل حادثات ہو رہے ہیں جبکہ پاکستان سے عمرہ زائرین کی آڑ میں بھکاری بیرون ملک جا کر ملک کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں، ان واقعات کی روک تھام کیلئے بلز پیش کرنے جا رہا ہوں جن کا مقصد ان جرائم میں ملوث افراد کو سخت سزائیں دینا ہے۔پہلا بل تارکین وطن کی سمگلنگ کی روک تھام سے متعلق ترمیمی بل 2025، دوسرا بل روک تھام ٹریفیکنگ ان پرسنز ترمیمی بل 2025 اور تیسرا ایمیگریشن آرڈنینس 1979 میں مزید ترمیم کا بل شامل ہے، ان قوانین کے تحت ان جرائم میں ملوث افراد کو 3 سے 10 سال قید و جرمانے کی سزائیں دی جائیںگی جبکہ بیرون ملک بھیک منگوانے میں ملوث سرغنہ کو سخت سزائیں دی جائیں گی۔اسکے علاوہ، مالیاتی بل اور انکم ٹیکس ترمیمی بل 2025 بھی سینیٹ میں پیش کیا گیا جس پر تجاویز پیر تک طلب کر لی گئیں، فنانس کمیٹی تجاویز پر 10 روز میں رپورٹ پیش کرے گی پھر سفارشات قومی اسمبلی بھجوائی جائیں گی۔