یواے ای میں جنسی جرائم اور جسم فروشی کی سزائو ں میں بڑی تبدیلیاں

 کم عمر بچے کے ساتھ جنسی تعلق پر کم از کم 10 سال قید اور ایک لاکھ درہم جرمانے کی سزا ملے گی
16 سال سے زیادہ عمر کے نوجوانوں کو جنسی تعلق کے معاملے میں کچھ حد تک آزادی حاصل ہوگی
دبئی(آئی این پی ) متحدہ عرب امارات(یو اے ای ) نے جنسی جرائم اور جسم فروشی کے حوالے سے سزائو ں میں اہم تبدیلیاں متعارف کرا دی ہیں ،، یہ اصلاحات بچوں کی حفاظت اور عوامی تحفظ کیلئے کی گئی ہیں۔اماراتی نئے قوانین کے مطابق، اگر کوئی بالغ شخص 18 سال سے کم عمر بچے کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرتا ہے، تو اسے کم از کم 10 سال قید اور ایک لاکھ درہم (تقریبا 76 لاکھ پاکستانی روپے )  جرمانے کی سزا ملے گی۔ یہ سزا اس صورت میں بھی دی جائے گی، چاہے متاثرہ شخص نے رضامندی ظاہر کی ہو۔تاہم، اگر متاثرہ شخص 16 سال یا اس سے زیادہ عمر کا ہو، تو پھر رضامندی کو بھی مدنظر رکھا جائے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ 16 سال سے زیادہ عمر کے نوجوانوں کو جنسی تعلق کے معاملے میں کچھ حد تک آزادی حاصل ہوگی، لیکن 18 سال سے کم عمر کے بچوں کی حفاظت کو انتہائی اہمیت دی جائے گی۔نئے قانون کے تحت، اگر کوئی شخص کسی کو جسم فروشی یا بدکاری کی طرف راغب کرتا ہے، تو اسے کم از کم 2 سال قید اور جرمانے کی سزا دی جائے گی۔ اگر متاثرہ شخص 18 سال سے کم عمر کا ہو، تو سزا میں اضافہ کیا جائے گا۔میڈیارپورٹس کے مطابق یہ اصلاحات ان افراد کے خلاف بھی ہوں گی جو بچوں کو جنسی استحصال یا بدکاری کی طرف مائل کرتے ہیں۔حکام کو یہ اختیار بھی دیا گیا ہے کہ وہ مجرم کی سزا مکمل ہونے کے بعد اضافی احتیاطی تدابیر نافذ کرسکیں تاکہ عوامی تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ ان تدابیر کا مقصد یہ ہے کہ مجرموں کو دوبارہ ایسی حرکتیں کرنے سے روکا جائے۔یہ تبدیلیاں اس بات کو یقینی بنانے کے لئے کی گئی ہیں کہ بچوں اور نوجوانوں کو جنسی استحصال، بدکاری اور دیگر جرائم سے بچایا جا سکے۔اماراتی نئے قوانین نہ صرف قانونی سطح پر اصلاحات ہیں بلکہ معاشرتی سطح پر بھی ایک مضبوط پیغام ہیں کہ بچوں کی حفاظت اور اخلاقی تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جائے گا۔