ایف 35 طیاروں سمیت فوجی سامان بھارت کو دیں گے۔‘ بھارت جتنا ٹیرف لگائے گا ہم بھی اتنا ہی لگائیں گے، انتہاپسند دہشت گردی کا بھارت کیساتھ ملکرمقابلہ کریں گے
تیل اور گیس بھی بھارت کو دیں گے‘ ممبئی میں دہشت گرد حملوں میں ملوث پاکستانی شہری تہور رانا بھی بھارت کے حوالے کریں گے:امریکی صدر کی مودی کیساتھ پریس کانفرنس
واشنگٹن(آئی این پی‘مانیٹرنگ ڈیسک )بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی، جس میں دونوں رہنمائوں نے مختلف عالمی اور دوطرفہ مسائل پر بات چیت کی۔ملاقات میں ٹرمپ نے کہا کہ بھارت کو اربوں ڈالر کا فوجی سامان اور تیل اور گیس فراہم کرے گا، کیونکہ امریکہ کے پاس یہ وسائل کافی مقدار میں موجود ہیں جبکہ صدر ٹرمپ نے 2008 میں ممبئی میں دہشت گرد حملوں میں ملوث پاکستانی شہری تہور رانا کی حوالگی پر بھی رضامندی کا اظہار کیا ہے ۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ملاقات کے بعد کہا کہ انہیں بھارتی وزیراعظم سے ملاقات کرکے خوشی ہوئی اور گزشتہ دور صدارت میں مودی کے ساتھ تعلقات انتہائی مضبوط رہے ہیں۔ملاقات کے دوران مودی پرچیاں دیکھ کر بیان پڑھتے نظر آئے، جس پر امریکی میڈیا نے توجہ دی۔ مودی نے اس موقع پر کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ انہیں دوبارہ ٹرمپ کے ساتھ کام کرنے کا موقع مل رہا ہے۔ٹرمپ نے بھارتی وزیراعظم کے کام کو سراہا اور کہا کہ مودی بھارت میں بہت اچھا کام کر رہے ہیں اور وہ ایک بڑے رہنما ہیں۔مودی نے اس موقع پر ٹرمپ سے ایک اہم بات سیکھنے کا اعتراف کیا اور کہا کہ وہ قومی مفاد کو ہمیشہ اولین ترجیح دیتے ہیں۔ ملاقات میں مشترکہ پریس کانفرنس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ممبئی حملوں کا ذکر کیا، انہوں نے کہا کہ بھارتی وزیراعظم کا شکریہ، ہم انہیں ایف 35 سمیت کئی ارب ڈالرکا فوجی سامان بھارت کو دیں گے۔ امریکی صدر نے کہا کہ بھارت جتنا ٹیرف لگائے گا ہم بھی اتنا ہی لگائیں گے، انتہاپسند دہشت گردی کا بھارت کیساتھ ملکرمقابلہ کریں گے، یوکرین کونیٹو میں نہیں ہونا چاہئے، جنگ کی وجہ یوکرین کو نیٹو میں شامل کرنے کی بات تھی، چین سے امریکا کے بہت اچھے تعلقات ہوں گے، چین ہمیں یوکرین جنگ ختم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔بھارتی وزیراعظم نریندرمودی نے تجارت کا حجم دوگنا کرنے کے عزم کا اظہار کیا، امریکی یونیورسٹیوں کو بھارت میں کیمپس کھولنے کی دعوت دی، انہوں نے امریکی صدر کو دورہ بھارت کی دعوت دی، امریکا خود کو عظیم بنانا چاہتا ہے ہم بھی بھارت کو عظیم بنانا چاہتے ہیں۔نریندر مودی نے مزید کہا کہ لاس اینجلس میں نیا بھارتی سفارتخانہ کھولیں گے‘ بنگلا دیش میں حسینہ واجد حکومت کا تختہ الٹنے میں امریکی ڈیپ اسٹیٹ کے کردار کے سوال پر امریکی صدر نے معاملہ نریندر مودی پر ڈالتے ہوئے کہا کہ ہمارا اس میں کوئی کردار نہیں، میں ابھی اس بارے میں پڑھ رہا ہوں، بنگلا دیش پر مودی برسوں سے کام کر رہے تھے اور میں یہ معاملہ ان پر چھوڑتا ہوں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیاروں کا اتنا بڑا ذخیرہ ہے کہ ہم 100 دفعہ دنیا کو تباہ کر سکتے ہیں۔امریکہ کو نئے جوہری ہتھیار بنانے کی ضرورت نہیں ہے، اس سے بچنے والی رقم کو دوسرے معاملات پر خرچ کیا جا سکتا ہے۔