لاہور سمیت پنجاب بھر میں موٹر وہیکل آرڈیننس میں ترامیم کے مثبت اثرات ظاہر ہونے لگے ہیں۔
ٹریفک پولیس کے مطابق نئے قوانین کے نفاذ کے بعد چالانز اور حادثات میں واضح کمی دیکھنے میں آئی ہے، جبکہ ڈرائیونگ لائسنسنگ میں بڑا اضافہ ہوا ہے۔
چالانز اور حادثات:
27 نومبر سے اب تک 10 لاکھ سے زائد چالانز کیے جا چکے ہیں۔
گزشتہ ایک ہفتے میں روزانہ چالانز کی تعداد 60 ہزار سے کم ہو کر 35 ہزار پر آ گئی ہے۔
حادثات میں 40 فیصد کمی واقع ہوئی ہے اور 29 شہروں میں ایک بھی جان لیوا حادثہ رپورٹ نہیں ہوا۔
لائسنسنگ اور مالی وصولیاں:
لاہور سمیت پنجاب بھر میں 20 لاکھ لائسنس جاری کیے جا چکے ہیں۔
جرمانوں اور لائسنسنگ فیس کی مد میں 4 ارب روپے سے زائد وصول کیے جا چکے ہیں۔
ڈی آئی جی ٹریفک وقاص نذیر کے بیانات:
انہوں نے کہا کہ نئے قوانین کے باعث ون وے کی خلاف وزیوں میں کمی، ہیلمٹ کے استعمال میں اضافہ، کم عمر بچوں کی ڈرائیونگ اور غیر محفوظ گاڑیوں کے استعمال میں واضح کمی دیکھی گئی ہے۔
پوائنٹ سسٹم متوقع طور پر اسی مہینے سے نافذ ہوگا، جس کے تحت 20 پوائنٹس پورے ہونے پر لائسنس 6 ماہ کے لیے معطل کیا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ سولہ سال سے 18 سال کے بچوں کی لائسنسنگ کی سمری کابینہ میں منظوری کے لیے پیش کی گئی ہے، اور منظوری کے بعد 16 سال کے بچوں کے لیے موٹر سائیکل لائسنس جاری کرنے کا عمل شروع ہو جائے گا۔
اثرات اور مستقبل کی تیاری:
موٹر وہیکل آرڈیننس میں ترامیم کے نفاذ سے نہ صرف سڑکوں پر حفاظت میں اضافہ ہوا ہے بلکہ لائسنسنگ اور جرمانوں کے ذریعے آمدنی میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پوائنٹ سسٹم اور کم عمر ڈرائیورز کے لیے نئے قوانین سڑکوں پر نظم و ضبط اور محفوظ ڈرائیونگ کے فروغ میں مددگار ثابت ہوں گے۔