فرانس، لمپی اسکن بیماری پر گایوں کے ذبح کے حکومتی فیصلے کیخلاف کسان سڑکوں پر آگئے

 حکومتی فیصلے کو سخت اور غیر منصفانہ قرار دیا گیا ، جگہ جگہ ٹریکٹر کھڑے کر دئیے اور گھاس کے گٹھوں کو آگ لگا دی
پیرس(آئی این پی )فرانس کے جنوب مغربی علاقوں میں ہزاروں کسانوں نے گایوں میں پھیلنے والی جلدی بیماری کے باعث بڑے پیمانے پر جانوروں کے ذبح کیے جانے کے خلاف سڑکیں بند کر دیں اور احتجاج کیا۔غیرملکی میڈیارپورٹ کے مطابق کسانوں نے حکومت کے فیصلے کو سخت اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے جگہ جگہ ٹریکٹر کھڑے کر دیے اور گھاس کے گٹھوں کو آگ لگا دی۔حکومت نے نوڈیولر ڈرماٹائٹس (لمپی اسکن ڈیزیز ) کے پھیلا ئو کو روکنے کے لئے متاثرہ ریوڑ کے تمام جانور ذبح کرنے اور تقریبا 10 لاکھ مویشیوں کو ویکسین لگانے کا اعلان کیا ہے۔ اسپین کی سرحد کے قریب ایک گائو ں میں بیماری کا ایک کیس سامنے آنے پر 200 سے زائد گایوں کو ذبح کیا گیا، جس پر کسان شدید غصے میں آ گئے۔کسان تنظیموں کا کہنا ہے کہ پورے ریوڑ کو ذبح کرنا موثر حل نہیں بلکہ کسانوں کی زندگی بھر کی محنت کو برباد کرنے کے مترادف ہے۔ ہفتے کے روز ملک بھر میں 40 سے زائد مقامات پر مظاہرے ہوئے، جن میں تقریبا 2 ہزار افراد نے شرکت کی جبکہ کئی شاہراہیں بند رہیں۔واضح رہے کہ لمپی اسکن ڈیزیز انسانوں میں منتقل نہیں ہوتی، تاہم یہ مویشیوں کیلئے جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔ یہ بیماری پہلی بار جون میں فرانس میں سامنے آئی تھی۔