مقبوضہ کشمیر سے آسام تک بھارتی یومِ آزادی کے بائیکاٹ کا سلسلہ جاری

مقبوضہ کشمیر سے آسام تک بھارتی یومِ آزادی کے بائیکاٹ کا سلسلہ جاری

بھارتی یومِ آزادی کے موقع پر مقبوضہ کشمیر اور شمال مشرقی بھارت میں احتجاج اور بائیکاٹ کی مہم جاری ہے۔

کشمیر میڈیا ہاؤس کے مطابق، 15 اگست کو کشمیری، سکھ اور شمال مشرقی ریاستوں کے عوام نے بھارتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجاً تقریبات سے دوری اختیار کی ہے۔ بعض علاقوں میں کالے جھنڈے بھی لہرائے گئے ہیں۔خاص طور پر آسام، ناگالینڈ، منی پور اور اروناچل پردیش میں مختلف علیحدگی پسند تنظیموں نے یومِ آزادی کے بائیکاٹ اور ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ناگالینڈ میں 14 اگست کو 80واں یومِ آزادی منایا گیا، جس کے دوران ناگا نوجوانوں نے بھارتی پرچم نذر آتش کرنے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر شیئر کی ہیں۔ ناگا نیشنل کونسل نے 1947 میں علیحدہ ناگالینڈ کی آزادی کا اعلان کیا تھا، اور اب بھی اس علاقے کا بھارت میں انضمام کو ناقابلِ قبول قرار دیا جا رہا ہے۔منی پور میں سوشلسٹ ریوولوشنری پارٹی نے 12 گھنٹے کی ہڑتال کی کال دی، اور بعض مقامات پر سیاہ پرچم لہرائے گئے۔ اسی طرح، کوآرڈینیشن کمیٹی اور دیگر تنظیموں نے مکمل ہڑتال اور شٹ ڈاؤن کا اعلان کیا ہے۔اروناچل پردیش میں بھی سکیورٹی الرٹ جاری ہے، کیونکہ احتجاجی سرگرمیوں کا خدشہ ہے۔

ناگا قوم پرست قیادت نے 15 اگست کی تقریبات کو بھارتی بالادستی اور حقِ خودارادیت کی پامالی قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ خودمختاری، قومی پرچم اور علیحدہ آئین پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔رپورٹ کے مطابق، ناگا قیادت 1951 کے استصوابِ رائے کو اپنے حقِ خودارادیت کی توثیق قرار دیتی ہے، اور دعویٰ کرتی ہے کہ اس میں مقامی عوام کی اکثریت نے بھارت سے علیحدگی کی حمایت کی تھی۔دوسری طرف، یومِ آزادی کے بائیکاٹ کے بعد آسام میں حساس تنصیبات اور سرکاری مقامات پر سکیورٹی سخت کردی گئی ہے، تاکہ کسی بھی ممکنہ احتجاج یا احتجاجی سرگرمی سے نمٹا جا سکے۔