گڈز ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال کا آٹھواں روز، ملک بھر میں اشیا کی ترسیل، برآمدات اور درآمدات کے کنٹینرز مکمل طور پر رک گئے ہیں۔
اس ہڑتال کے سبب روزانہ تقریباً 10 ہزار کنٹینرز پورٹ سے نکلنا بند ہو چکا ہے، جس سے ملک کی معیشت کو 50 ارب روپے سے زائد کا نقصان پہنچ رہا ہے۔صدر گڈز ٹرانسپورٹرز الائنس ملک شہزاد اعوان کا کہنا ہے کہ حالیہ مذاکرات میں وفاقی وزیر بحری امور سے بات چیت کامیاب رہی تھی، مگر افسوس ہے کہ وفاقی حکومت، وزارت مواصلات، فنانس اور پیٹرولیم کے مطالبات پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔ باقی تمام مطالبات پر وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ ڈیڈ لاک برقرار ہے۔ملک شہزاد اعوان نے واضح کیا کہ ملک گیر ہڑتال جاری رہے گی، اور مطالبات منظور ہونے تک یہ سلسلہ جاری رہے گا، جس سے ملک کی سپلائی چین اور معیشت کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔