پولیس ٹارگٹ کلنگ، باپ بیٹے کی ہلاکت کے معاملے میں پیشرفت، ٹارگٹ کلر کی بیٹی بھی زیر حراست

پولیس ٹارگٹ کلنگ، باپ بیٹے کی ہلاکت کے معاملے میں پیشرفت، ٹارگٹ کلر کی بیٹی بھی زیر حراست

لاہور پولیس نے ٹارگٹ کلنگ اور باپ بیٹے کی مقابلے میں ہلاکت کے معاملے کی تفتیش میں اہم انکشافات کیے ہیں، جن کے مطابق 2 سال کے دوران ایک ہی خاندان کی جانب سے متعدد ٹارگٹ کلنگ کے واقعات کو کیس اسٹڈی کے طور پر لیا گیا ہے۔

 تفتیش سے معلوم ہوا ہے کہ اس سلسلے میں ملوث ٹارگٹ کلر فیاض بٹ کے خاندان کے افراد، خاص طور پر اس کی بیٹی ماہ نور شہزادی، کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے۔فیاض بٹ کے خاندان میں اس کے دو بیٹے اور ایک بیٹی شامل ہیں، جن میں سے ماہ نور شہزادی بھی اسی مدرسے میں پڑھتی تھی جہاں ٹارگٹ کلر فیضان پڑھتا رہا۔ اس کی موبائل فون اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس کا فرانزک کروایا جا رہا ہے تاکہ اس کے کردار کا پتہ چلایا جا سکے۔تفتیش کے مطابق، پولیس کو اطلاع ملی ہے کہ ٹارگٹ کلرز کا گینگ ایل ڈبلیو ایم سی کی گاڑی کے ٹریکر سے نشاندہی ہوئی، اور انہوں نے مریدکے کے قریب سرکاری گاڑی اور ڈرائیور کو چھوڑ دیا۔ مزید برآں، راوی ریان کے علاقے میں ٹارگٹ کلرز نے ایک گھر میں پناہ لی ہوئی تھی، جہاں سے مصری شاہ میں واقع ریحان بٹ کے گھر سے ہینڈ گرینیڈ برآمد ہوئے ہیں۔پولیس کا کہنا ہے کہ، ریحان بٹ اور فیاض بٹ کے خاندان کے دیگر افراد کو بھی تفتیش کے لیے شامل کیا گیا ہے۔

 ٹارگٹ کلرز سے رابطے میں رہنے والے پولیس اہلکاروں کے موبائل فونز اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی جانچ شروع کر دی گئی ہے، اور انہوں نے سب انسپکٹر عدیل اور کانسٹیبل اسد پر فائرنگ کے بعد موبائل فون بند کر دیے تھے تاکہ لوکیشن ٹریس ہونے سے بچا جا سکے۔ملزمان کے فرار ہونے والے ساتھی طارق کی تلاش جاری ہے، اور زیر حراست افراد میں مناواں کا رہائشی رکشہ ڈرائیور بھی شامل ہے، جس پر شبہ ہے کہ اس نے ٹارگٹ کلرز کو حملے کے دوسرے مقام تک پہنچایا۔ پولیس نے مزید کارروائیوں کے لیے ان افراد کی نشاندہی پر کام جاری رکھا ہے، تاکہ اس نیٹ ورک کا سراغ لگایا جا سکے۔اس کیس کی تفتیش سے ثابت ہوتا ہے کہ لاہور میں ٹارگٹ کلنگ کا یہ نیٹ ورک گہرے اور منظم انداز میں کام کر رہا ہے، اور پولیس اس کے پس پردہ عناصر کا سراغ لگانے کے لیے بھرپور کوششیں کر رہی ہے۔