ٹیکساس کے گورنر گریگ ایبٹ نے حالیہ ہفتوں میں ڈیلس، فورٹ ورتھ اور ہیوسٹن کے بڑے ایئرپورٹس پر موجود یا مجوزہ مسلمانوں کے لیے وضو اور نماز کی سہولیات کو مبینہ طور پر مذہبی امتیاز قرار دیتے ہوئے سرکاری گرانٹس کا جائزہ لینے کا حکم دیا ہے۔
اس اقدام کے تحت، گورنر نے امریکی محکمۂ ٹرانسپورٹیشن اور فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن کو ہدایت دی ہے کہ وہ دونوں ایئرپورٹس پر موجود یا مجوزہ مذہبی سہولتوں کا تفصیلی جائزہ لیں۔ انہوں نے استدلال کیا کہ سرکاری ملکیت میں موجود تنصیبات میں کسی ایک مذہب کے پیروکاروں کے لیے مخصوص سہولیات فراہم کرنا، مذہبی امتیاز کے زمرے میں آ سکتا ہے، اور اس کا مقصد مختلف مسافروں کے مساوی حقوق کا تحفظ ہونا چاہیے۔ایبٹ کے مطابق، اگر یہ سہولیات امریکہ کے آئین اور مذہبی آزادی کے اصولوں کے خلاف ثابت ہوتی ہیں، تو سرکاری گرانٹس کی رقم واپس لینے یا مستقبل میں فنڈز روکنے کا بھی فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ چونکہ یہ ایئرپورٹس سرکاری ملکیت میں ہیں، اس لیے حکومت کسی ایک مذہب کو ترجیح نہیں دے سکتی، اور تمام مسافروں کے مساوی حقوق کا خیال رکھنا ضروری ہے۔گورنر نے اپنی بات کو سوشل میڈیا پر بھی دہرایا، جہاں انہوں نے کہا کہ ٹیکس دہندگان کے پیسے سے چلنے والی سرکاری سہولتوں میں کسی بھی قسم کا غیر قانونی مذہبی امتیاز برداشت نہیں کیا جائے گا۔
اس حوالے سے ردعمل کا انتظار ہے کہ امریکی محکمۂ ٹرانسپورٹیشن اور فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن اس حکم کے بارے میں کیا فیصلہ کریں گے۔ یہ معاملہ اس وقت میڈیا میں خاص توجہ کا مرکز بن گیا ہے، کیونکہ اس نے مذہبی آزادی، مساوی سہولتوں اور سرکاری اداروں میں مختلف مذاہب کے مسافروں کو فراہم کی جانے والی سہولتوں کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔مذہبی آزادی کے حامیوں کا کہنا ہے کہ مسافروں کو اپنی مذہبی رسومات کی ادائیگی کے لیے بنیادی سہولیات فراہم کرنا آئین کے تحت ان کا حق ہے، جبکہ گورنر کے supporters کا موقف ہے کہ سرکاری سہولیات کو کسی خاص مذہب کے لیے مخصوص کرنا مساوی حقوق کے خلاف ہے اور اس سے دیگر مذہبی گروہوں کے حقوق متاثر ہو سکتے ہیں۔
اس معاملے کی حالیہ پیش رفت نے ریاست ٹیکساس اور امریکہ بھر میں مذہبی آزادی اور مساوی حقوق کے تناظر میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے، اور ممکنہ طور پر اس کے نتائج قانون سازی اور سرکاری پالیسیوں پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔