فضا آزادی کے نعروں سے گونجتی رہی،مزارقائد اورمزاراقبال پرگارڈز تبدیل ،واہگہ اور گنڈاسنگھ بارڈر پرخصوصی پریڈز
لاہور ،اسلام آباد (کرائم رپورٹر ،بیورو رپورٹ)ملک بھر گزشتہ روز 78واں یوم جشن آزادی ملی جوش و جذبے کیساتھ منایا گیا ،ہرطرف قومی پرچموں کی بہار تھی اورفضائیں پاکستان زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھیں ،دن کے آغاز پر توپوں کی سلامی دی گئی اور نماز فجر میں ملکی ترقی، یکجہتی، امن اور خوشحالی کیلئے خصوصی دعائیں کی گئیں اورپرچم کشائی کی تقریبات کا اہتمام کیاگیا۔تفصیلات کے مطابق رات 12 بجتے ہی ملک بھر میں جشن شروع ہوگیا،بھارت کے خلاف معرکہ حق میں تاریخی فتح اور آزادی کا جشن مناتے ملک کا ہر شہر ،ہر گلی، ہرمحلہ سبز ہلالی پرچم کے رنگوں میں رنگ گیا۔کراچی، لاہور، اسلام آباد، پشاور، کوئٹہ اور ملتان سمیت ملک کے کونے کونے میں چراغاں اور آتش بازی کا مظاہرہ کیا گیا۔ شہری سڑکوں پرنکل آئے، جگہ جگہ جشن آزادی پر ریلیاں نکالی گئیں۔وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں دن کا آغاز 31اورصوبائی دارالحکومتوں میں 21 توپوں کی سلامی سے ہوا، مظفر آباد میں بھی پاک فوج کے دستوں نے توپوں کی سلامی پیش کی۔ وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے یوم آزادی کے موقع پر پاکستان مونومنٹ میں پرچم کشائی کی اور یادگار شہداء پر پھول چڑھائے، اس موقع پر سائرن بجائے گئے اور قومی ترانہ بجایا گیا۔ وزیر اعظم نے یادگار شہداء پر حاضری دی، پھول چڑھائے اور مادر وطن پر جان نچھاور کرنے والے شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کی بلندی درجات کے لئے فاتحہ خوانی کی۔ اس موقع پر وزیر اعظم نے ملک کی سلامتی اور خوشحالی کے لئے دعاکی۔ اس موقع پر بچوں کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔ چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی، سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، ڈپٹی سپیکر سید غلام مصطفیٰ شاہ، وفاقی وزراء رانا تنویر حسین، عطاء اللہ تارڑ، ڈاکٹر طارق فضل چودھری، سردار محمد یوسف، پروفیسر احسن اقبال اور محمد حنیف عباسی کے علائوہ بڑی تعداد میں ارکان قومی اسمبلی اور دیگر افراد نے تقریب میں شرکت کی۔ کور کمانڈر لاہور کے زیر اہتمام شاندار تقریبات کا انعقاد کیا گیا، وزیراعلیٰ مریم نواز نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ آرمی پبلک سکول کے بچوں نے ملی نغمے پیش کئے ، خصوصی پرچم کشائی بھی کی گئی۔پنجاب کے قائم مقام گورنر ملک محمد احمد خان نے گورنر ہائوس میں پرچم کشائی کی اور مزارِ اقبال پر حاضری دی۔ ملک محمد احمد خان نے پوری قوم کو یومِ آزادی اور معرکہ حق میں تاریخی فتح پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاک فوج اور سکیورٹی ادارے ملکی سرحدوں کے محافظ ہیں اور ان کی قربانیاں ناقابلِ فراموش ہیں۔ جشن آزادی پر شہر شہر، گلی گلی سبز ہلالی پرچم کے رنگوں سے رنگ گئے، جبکہ سرکاری و رہائشی عمارتوں، شاہراہوں، سڑکوں اور مختلف مقامات کو برقی قمقموں سے سجایا گیا ہے۔جشن آزادی کے موقع پر بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے مزار پر گارڈز کی تبدیلی کی پر وقار تقریب ہوئی، پاکستان نیول اکیڈمی کے چاق و چوبند کیڈٹس نے اعزازی گارڈز کے فرائض سنبھال لئے، گارڈز میں 4 خواتین کیڈٹس بھی شامل ہیں۔کمانڈنٹ پاکستان نیول اکیڈمی کموڈورلاہور میں تصور اقبال تقریب کے مہمان خصوصی تھے، کمانڈنٹ پاکستان نیول اکیڈمی کموڈور تصور اقبال نے مزار قائدٓ پر پھولوں کی چادر چڑھائی اور فاتحہ خوانی کی، پاک بحریہ کی جانب سے بابائے قوم محمد علی جناحٓ کو قومی سلام پیش کیا گیا، مہمانوں کی کتاب میں اپنے تاثرات بھی قلمبند کئے۔ گاڈرز کی تبدیلی کی پروقار تقریب میں پنجاب رینجرز کے چاق و چوبند دستے نے پاکستان آرمی کو چارج دے دیا۔یوم آزادی کی مناسبت سیواہگہ بارڈ پر خصوصی پریڈ اور پر چم اتارنے کی تقریب ہوئی جس میں عوام کی بڑی تعداد شریک تھی جن کا جوش وجذبہ دیدنی تھا،فضا پاکستان زندہ باد نعروں سے گونج اٹھی۔گنڈا سنگھ بارڈر پربھی یوم آزادی کی سپیشل پریڈ ہوئی ، پنجاب رینجرز نے کمال پرفارمنس دکھائی۔ یوم آزادی پر پنجاب بھر میں جشن کی نئی تاریخ رقم ہو گئی، تمام41 اضلاع میں بیک وقت آتش بازی اور لیزر شوز کا نیا ریکارڈ قائم ،شہریوں نے گھروں، گاڑیوں اور بائیکس پر قومی پرچم لہرایا۔کوئٹہ اور راولپنڈی کے لیاقت میں ایک کلومیٹر طویل پرچم کی رونمائی ہوئی جبکہ جیلانی پار ک لاہور میں بھی بڑا پرچم لہرایا گیا۔لاہور ٹریفک پولیس نے آزادی سائیکل ریلی نکالی ، کراچی میں ٹریفک پولیس نے ریلی کا اہتمام کیا، پشاور میں آئی جی ایف سی نے یاد گار شہدا پر حاضری دی ، وزیر اعلی کے پی علی امین نے ڈی آئی خان میں پرچم کشائی کی۔وزیراعلیٰ سندھ مرادعلی شاہ اور گورنر کامران ٹیسوری نے کراچی میں مزار قائد پرحاضری دی۔اوباڑہ میں دو ہزار فٹ لمبے اور سکھر میں 300 فٹ اونچے ،84 فٹ لمبے اور56 فٹ چوڑے پرچم کی نمائش کی گئی۔ ننکانہ صاحب کے گورد وارہ میں جشن آزادی کا کیک کاٹا گیا۔ سپریم کورٹ میں چیف جسٹس یحیی آفریدی نے پر چم کشائی کی،اسلام آباد کورٹ میں چیف جسٹس سرفراز ڈوگراورلاہور کورٹ میں چیف جسٹس عالیہ نیلم نے پر چم کشائی کی،سندھ، پشاوراور بلوچستان کورٹس میں بھی پرچم کشائی کی تقریبات ہوئیں۔