بھارت اور چین کے درمیان سرحدی تجارت کی بحالی پر باضابطہ بات چیت شروع

بھارت اور چین کے درمیان سرحدی تجارت کی بحالی پر باضابطہ بات چیت شروع

تقریباً پانچ برس کے تعطل کے بعد بھارت اور چین نے سرحدی تجارت کی بحالی کے لیے باضابطہ مذاکرات کا آغاز کر دیا ہے۔

 یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دونوں بڑی معیشتیں عالمی تجارتی اور جغرافیائی سیاسی دباؤ کے تناظر میں تعلقات میں نرمی لانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ماضی میں دونوں ممالک کے درمیان سرحدی تجارت زیادہ تر برف پوش اور دشوار گزار ہمالیائی درّوں کے ذریعے ہوتی تھی، جو اگرچہ محدود حجم کی تھی مگر اعتماد اور تعاون کی علامت سمجھی جاتی تھی۔ تاہم 2020 میں لداخ کے علاقے گلوان وادی میں ہونے والی مہلک جھڑپ کے بعد تجارتی راستے بند کر دیے گئے اور تعلقات شدید کشیدگی کا شکار ہو گئے۔بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال کے مطابق، بھارت چین کے ساتھ تمام نامزد سرحدی تجارتی پوائنٹس — جن میں لیپولیکھ پاس (اتراکھنڈ)، شپکی لا پاس (ہماچل پردیش) اور ناتھو لا پاس (سکم) شامل ہیں — سے تجارت دوبارہ شروع کرنے پر بات کر رہا ہے۔ اس کا مقصد زمینی راستوں سے تجارت کے لیے درکار سہولیات کو بحال اور بہتر بنانا ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق، چینی وزیر خارجہ وانگ یی پیر کو نئی دہلی پہنچیں گے، جبکہ اس سے قبل بھارتی وزیر خارجہ سبرامنیم جے شنکر جولائی میں بیجنگ کا دورہ کر کے تعلقات کی بحالی پر بات کر چکے ہیں۔سرحدی تجارت کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک براہِ راست پروازوں کی بحالی اور سیاحتی ویزوں کے اجرا پر بھی غور کر رہے ہیں۔ تجزیہ کار اس پیش رفت کو 2020 کے بعد بگڑے ہوئے تعلقات کو معمول پر لانے کی کوشش اور موجودہ عالمی تجارتی بحران کے تناظر میں ایک عملی قدم قرار دے رہے ہیں۔