نئی دہلی: بھارت میں مسلمانوں کی اراضی سے متعلق متنازعہ وقف بل کے خلاف ملک بھر میں شدید احتجاج جاری ہے، مختلف علاقوں خصوصاً مغربی بنگال کے مرشدآباد میں حالات بے قابو ہو گئے ہیں۔
مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں میں درجنوں افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں جبکہ کئی اموات بھی رپورٹ کی گئی ہیں۔
مرشدآباد میں ہنگامے شدت اختیار کر گئے
مرشدآباد میں مظاہرین نے شدید غصے کا اظہار کرتے ہوئے پولیس کی متعدد موٹرسائیکلوں اور ایک بس کو نذر آتش کر دیا۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے شیلنگ اور ہوائی فائرنگ کا سہارا لیا، جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
وقف بل کے خلاف وسیع تر مزاحمت
یہ احتجاج صرف مغربی بنگال تک محدود نہیں بلکہ مہاراشٹرا، اترپردیش، دہلی، بہار اور دیگر ریاستوں میں بھی بڑے پیمانے پر ریلیاں نکالی گئیں۔ اپوزیشن جماعتیں، مسلم تنظیمیں، علماء کونسلز اور انسانی حقوق کے گروہ اس بل کی مخالفت میں پیش پیش ہیں۔ ان کے مطابق حکومت کی اس کوشش کا مقصد مسلمانوں کی اربوں روپے کی اراضی پر قبضہ کرنا ہے۔
بل کو عدالت میں چیلنج کیا جا چکا ہے
متنازع وقف بل کو بھارتی سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جا چکا ہے، جہاں اس کی آئینی حیثیت پر سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔ ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ بل اقلیتوں کے مذہبی اور جائیدادی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
عالمی سطح پر بھی تنقید
وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کو اس بل کے باعث عالمی سطح پر بھی تنقید کا سامنا ہے، خاص طور پر انسانی حقوق کے عالمی ادارے اور مسلم ممالک اس صورتحال پر شدید تحفظات کا اظہار کر چکے ہیں۔
حکومت کی جانب سے مؤقف
تاحال بھارتی حکومت کی جانب سے اس معاملے پر کوئی واضح مؤقف یا نرمی کا اشارہ نہیں دیا گیا، جبکہ مظاہرین مطالبہ کر رہے ہیں کہ بل کو فوری طور پر واپس لیا جائے اور گرفتار کیے گئے افراد کو رہا کیا جائے۔