لاس اینجلس میں امریکی سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سخت گیر امیگریشن پالیسیوں کے خلاف جاری مظاہرے نیشنل گارڈ کی تعیناتی کے بعد مزید شدت اختیار کر گئے ہیں۔
چار روز سے جاری ان مظاہروں میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں، گاڑیاں نذر آتش کی گئیں، اور مرکزی شاہراہیں بلاک کر دی گئیں۔وائٹ ہاؤس کی جانب سے ان مظاہروں کو "قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کے حق میں اقدام" قرار دیا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ موجودہ حالات "مزید سخت اقدامات" کا تقاضا کرتے ہیں۔دریں اثناء، سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک متنازع بیان میں کہا کہ اگر وہ امیگریشن اور کسٹمز نافذ کرنے والے سابق اہلکار ٹام ہومین کی جگہ ہوتے تو "کیلیفورنیا کے گورنر گیون نیوسم کو گرفتار کر لیتے۔" ان کا کہنا تھا: "یہ ایک بہترین کام ہو گا۔"گورنر گیون نیوسم نے نیشنل گارڈ کی تعیناتی کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے وفاقی حکومت کے خلاف عدالت سے رجوع کرنے کا اعلان کر دیا۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس" پر جاری کردہ بیان میں انہوں نے کہا: "یہی کچھ ٹرمپ چاہتے تھے۔ ہم اس غیر قانونی اقدام کے خلاف قانونی چارہ جوئی کریں گے۔"
لاس اینجلس پولیس کے مطابق، مظاہروں کے دوران اب تک کم از کم 39 افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔ اتوار کے روز 10 اور ہفتے کے روز 29 افراد گرفتار کیے گئے۔ پولیس نے شہر کے ڈاؤن ٹاؤن علاقے کو "غیرقانونی اجتماع" کا زون قرار دے دیا ہے۔ادھر، نیشنل گارڈ کے 300 اہلکاروں کو مختلف حساس مقامات پر تعینات کر دیا گیا ہے، جن میں وفاقی عمارتیں، سرکاری دفاتر اور عدالتی عمارات شامل ہیں۔مزید برآں، ڈونلڈ ٹرمپ کی امیگریشن پالیسی سے جڑی "ون بگ بیوٹیفل بل" نامی قانون سازی بھی خبروں کی زینت بنی ہوئی ہے، جس میں بارڈر سیکیورٹی میں اضافہ، ٹیکس میں کمی، اور گرین انرجی منصوبوں کو ختم کرنے کی تجاویز شامل ہیں۔مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ سیاسی کشیدگی 2026 کے امریکی انتخابات کے پیشِ نظر مزید بڑھ سکتی ہے۔