یورپ کے مختلف ممالک میں مہنگائی، رہائش کے بڑھتے اخراجات، تعلیم، پنشن، سرکاری پالیسیوں اور جنگی اخراجات کے خلاف احتجاجی مظاہروں کے دوران متعدد شہروں میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، جس کے بعد کئی مقامات پر سیکیورٹی سخت کردی گئی۔
فرانس، اٹلی، بیلجیم، اسپین اور البانیہ سمیت مختلف یورپی ممالک میں ہونے والے مظاہروں میں شہریوں نے معاشی مشکلات اور حکومتی فیصلوں پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔ بعض مقامات پر احتجاج پُرامن رہا، تاہم کچھ شہروں میں حالات کشیدہ ہوگئے اور پولیس کو مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور واٹر کینن سمیت دیگر اقدامات کرنا پڑے۔
فرانس میں لاکھوں افراد سڑکوں پر نکل آئے
فرانس میں 24 اکتوبر کو ملک بھر میں ہونے والے مظاہروں میں تقریباً 4 لاکھ 10 ہزار افراد نے شرکت کی، جبکہ دارالحکومت پیرس میں مظاہرین کی تعداد تقریباً ایک لاکھ 10 ہزار بتائی گئی۔پیرس میں احتجاج کا بڑا حصہ پُرامن رہا، تاہم مظاہرے کے اختتامی مقام کے قریب بعض افراد کی جانب سے پولیس پر اشیا اور آتش بازی پھینکنے کے واقعات پیش آئے، جس کے بعد سیکیورٹی اہلکاروں نے کارروائی کرتے ہوئے آنسو گیس، صوتی دستی بم اور واٹر کینن استعمال کیے۔اطلاعات کے مطابق مظاہروں کے دوران تقریباً ایک ہزار افراد کو گرفتار کیا گیا۔ احتجاج میں شریک افراد نے مہنگائی، رہائش کے اخراجات اور حکومتی پالیسیوں سمیت مختلف مسائل پر اپنے مطالبات پیش کیے۔
اٹلی کے بڑے شہروں میں احتجاج، سیکیورٹی مزید سخت
اٹلی میں بھی معاشی مسائل اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف مختلف شہروں میں مظاہرے کیے گئے۔ میلان، روم، ٹورین، بولونیا اور فلورنس میں ہونے والے احتجاج کے دوران بعض مقامات پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان تصادم کی اطلاعات سامنے آئیں۔کچھ مظاہرین نے پولیس پر پتھر، بوتلیں اور پٹاخے پھینکے، جس کے جواب میں پولیس نے آنسو گیس اور واٹر کینن استعمال کرتے ہوئے ہجوم کو منتشر کرنے کی کوشش کی۔میلان میں امن و امان کی صورت حال کے پیش نظر اضافی 500 فوجی اہلکار تعینات کیے گئے، جبکہ ڈرون کے ذریعے نگرانی سمیت سیکیورٹی کے دیگر اقدامات میں بھی اضافہ کیا گیا۔ان اقدامات کا مقصد اہم مقامات کی حفاظت اور احتجاج کے دوران ممکنہ بدامنی پر قابو پانا تھا۔
البانیہ میں حکومت مخالف مظاہرے، آنسو گیس کا استعمال
البانیہ کے دارالحکومت تیرانا میں بھی حکومت مخالف مظاہروں کے دوران صورت حال کشیدہ ہوگئی۔ احتجاج کے دوران سرکاری عمارتوں پر حملوں اور پولیس کے ساتھ جھڑپوں کے بعد سیکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا۔واقعات کے بعد متعدد افراد کو حراست میں لیے جانے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ تیرانا میں ہونے والے مظاہروں نے ایک مرتبہ پھر حکومتی پالیسیوں کے خلاف عوامی بے چینی کو نمایاں کیا۔
اسپین کے شہر بلباؤ میں پرتشدد احتجاج
اسپین کے شہر بلباؤ میں 27 اکتوبر کو انتہائی دائیں بازو کی ایک شخصیت کی متوقع آمد کے خلاف احتجاج کے دوران تشدد پھوٹ پڑا۔اطلاعات کے مطابق مظاہرے کے دوران بعض گاڑیوں اور کچرے کے ڈبوں کو آگ لگا دی گئی، جبکہ پولیس کی ایک موٹر سائیکل بھی نذرِ آتش کردی گئی۔ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے 9 افراد کو گرفتار کرلیا۔واقعے کے بعد علاقے میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے سیکیورٹی اقدامات کیے گئے۔ احتجاج کا تعلق انتہائی دائیں بازو کی شخصیت کی متوقع آمد کے خلاف ردعمل سے تھا، جبکہ اس دوران پیش آنے والے پرتشدد واقعات نے صورت حال کو مزید کشیدہ کردیا۔
یورپ میں عوامی بے چینی اور معاشی دباؤ
یورپی شہروں میں ہونے والے یہ مظاہرے مختلف نوعیت کے عوامی مطالبات اور حکومتی فیصلوں کے خلاف ردعمل کی عکاسی کرتے ہیں۔ مہنگائی، رہائش کے بڑھتے اخراجات، تعلیم اور پنشن سے متعلق مسائل کے ساتھ جنگی اخراجات اور سیاسی پالیسیوں پر تحفظات بھی احتجاج کی وجوہات میں شامل ہیں۔مختلف شہروں میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں، گرفتاریوں اور املاک کو نقصان پہنچانے کے واقعات کے بعد حکام نے سیکیورٹی سخت کردی ہے۔