لاہور کے 3 بس سٹینڈز و ٹرمینلز کی 3 کروڑ 3 لاکھ روپے میں نیلامی، آڈٹ رپورٹ میں خلاف ورزیوں کا انکشاف

لاہور کے 3 بس سٹینڈز و ٹرمینلز کی 3 کروڑ 3 لاکھ روپے میں نیلامی، آڈٹ رپورٹ میں خلاف ورزیوں کا انکشاف

ویب ڈیسک: لاہور شہر کے بس سٹینڈز اور ٹرمینلز کی فیسوں کے ٹھیکوں کی نیلامی میں قانون کی خلاف ورزی کا انکشاف ہوا ہے۔

تفصیلات:
نیلامی کی رقم:
لاہور کے تین بس سٹینڈز اور ٹرمینلز کی نیلامی 3 کروڑ 3 لاکھ روپے میں کی گئی۔ تاہم، نیلامی کے عمل میں قواعد و ضوابط کو نظر انداز کیا گیا، جس پر آڈٹ رپورٹ نے سوالات اٹھا دیے ہیں۔
آڈٹ رپورٹ کا انکشاف:
مالی سال 18-2017 کی آڈٹ رپورٹ میں نیلامی کے عمل کو غیرقانونی قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ نیلامی کے لیے ریزرو پرائس کا تعین نہیں کیا گیا۔ آڈٹ رپورٹ کے مطابق، تین سالہ آمدن کی اوسط پر ریزرو پرائس مقرر کرنا ضروری تھا، جو کہ قواعد کی خلاف ورزی ہے۔
ریکارڈ کی کمی:
آڈٹ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ گاڑیوں کی نقل و حرکت اور آمدن کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے۔ اس کے علاوہ، ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی سے اجازت شدہ گاڑیوں کا ڈیٹا بھی فراہم نہیں کیا گیا۔
اندرونی کنٹرول کی کمزوری:
آڈٹ ڈیپارٹمنٹ نے اندرونی مالیاتی کنٹرول کو کمزور قرار دیتے ہوئے متعلقہ افسران کی نشاندہی اور ان کی ذمہ داری کے تعین کی سفارش کی ہے۔
اصلاحی اقدامات کی سفارش:
آڈٹ رپورٹ میں اصلاحی اقدامات کی بھی سفارش کی گئی ہے تاکہ مستقبل میں اس طرح کی خلاف ورزیاں روکی جا سکیں۔
نتیجہ:
آڈٹ رپورٹ کے مطابق، لاہور کے بس سٹینڈز کی نیلامی میں قانونی تقاضوں کی خلاف ورزیوں کا انکشاف ہوا ہے جس کے بعد متعلقہ حکام سے مزید وضاحت اور اصلاحات کی درخواست کی گئی ہے۔