ایٹمی پالیسی بدلنے سے امریکا اور اس کے حواریوں کو ان کی صحیح جگہ دکھائی جا سکتی ہے: عباس گودرزی
تہران(آئی این پی ) اقوامِ متحدہ کے ایٹمی انرجی کمیشن کے بورڈ آف گورنرز کی جانب سے ایران کو عدم تعاون پر سلامتی کونسل میں بھیجنے کی قرارداد منظور کیے جانے کے بعد تہران اور مغربی ممالک کے درمیان سفارتی اور ایٹمی کشیدگی انتہائی تشویشناک حد تک بڑھ گئی ۔پچیس سال میں پہلی بار پاس ہونے والی اس قرارداد کے جواب میں ایرانی پارلیمنٹ کی صدارتی کمیٹی کے ترجمان عباس گودرزی نے کہا ہے کہ ایٹمی ہتھیاروں کے عدم پھیلا کے معاہدے یعنی این پی ٹی سے الگ ہونا اور ملک کے ایٹمی نظریے پر نظرِ ثانی کرنا ممکنہ آپشنز ہیں۔ایرانی نیوز ایجنسی فارس کے مطابق عباس گودرزی نے مزید کہا کہ این پی ٹی کو چھوڑنے اور ایٹمی پالیسی بدلنے سے امریکا اور اس کے حواریوں کو ان کی صحیح جگہ دکھائی جا سکتی ہے