حوثی تنظیم انصار اللہ کا بحیرہ احمر کے جزیرے میون پر قبضے کا دعوی، باب المندب پر مکمل کنٹرول حاصل کرلیا‘سعودیہ نے یمن پر 48 گھنٹوں میں 129حملے کئے ہیں، حملوں کا جواب دیا جائے گا:انصار اللہ
حوثیوں کے حملوں پر برطانیہ کا سعودی اور یمنی حکومت سے بھرپوراظہار یکجہتی‘عراق ہمسایہ ممالک کے خلاف حملوں کیلئے لانچنگ پیڈ نہیں بنے گا،ملک کی سلامتی اور قومی خودمختاری کا تحفظ اولین ترجیح ہے: عراقی وزیراعظم
صنعا‘لندن‘بغدار(آئی این پی )یمن کے حوثی جنگجوں نے دعوی کیا ہے کہ انہوں نے جنوبی سعودی عرب میں واقع شرورہ فوجی اڈے کو ڈرونز اور میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے۔غیرملکی میڈیا کے مطابق حوثیوں کے فوجی ترجمان یحیی سریع نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان میں کہا کہ حملے میں اسلحے کے گوداموں اور ان کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز کو نشانہ بنایا گیا جو ان کے بقول یمن کے خلاف کارروائیوں کی نگرانی کررہے تھے۔یمن کی حوثی اکثریتی تنظیم انصار اللہ نے بحیرہ احمر کے اسٹریٹجک جزیرے میون پر قبضے کا دعوی کیا ہے جبکہ تنظیم نے سعودی حمایتی فورسز کے زیرِ استعمال امریکی ساختہ بکتر بند ٹینک ،فوجی ساز و سامان ضبط کرنے کا بھی دعوی کیا ہے اور کہا ہے کہ سعودی عرب میں اسلحہ ڈپو اور کمانڈ مراکز کو نشانہ بنا یا گیا ہے جبکہ سعودی عرب نے یمن پر 48 گھنٹوں میں 129حملے کئے ہیں ۔عرب میڈیا کے مطابق جزیرہ میون پر قبضے کے بعد حوثیوں کا باب المندب پر مکمل کنٹرول ہو گیا ہے، گزشتہ روز انصار اللہ نے آبنائے باب المندب پر گرفت مضبوط ہونے کا دعوی کیا تھا۔انصار اللہ نے سعودی حمایتی فورسز کے زیرِ استعمال امریکی ساختہ بکتر بند ٹینک پر بھی قبضے کا دعوی کیا ہے۔عرب میڈیا کا کہنا ہے کہ انصار اللہ نے سعودی حمایتی فورسز کو 5400 مربع کلومیٹر کے علاقے سے پسپا کرنے کا دعوی کیا ہے۔انصار اللہ نے قبضہ کیے ہوئے علاقے سے لاکھوں ڈالرز کا فوجی ساز و سامان ضبط کر لیا۔سعودی جنگی طیاروں نے گزشتہ دو دنوں کے دوران انصار اللہ المعروف حوثیوں کے زیرِ قبضہ جنوبی، وسطی اور شمالی صوبوں میں واقع مختلف مواضع پر پے در پے فضائی حملے کیے ہیں، جبکہ یم،ن کی سرکاری افواج نے حوثی باغیوں کے پانچ ڈرونز مار گرانے کا دعوی کیا ہے۔برطانیہ نے حوثیوں کے حملوں کے پیش نظر سعودی اور یمنی حکومت سے بھرپور یکجہتی کا اظہارکیاہے۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان اور برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے جس میں دونوں رہنمائوں نے خطے کی تازہ صورتحال اور حوثیوں کے حملے پر گفتگو کی۔ برطانوی وزیر خارجہ نے اس موقع پر کہاکہ برطانیہ حوثیوں کے حملوں کیخلاف سعودی حکومت کے ساتھ کھڑا ہے۔ اس سے قبل سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے ترکیہ اور قطر کے وزرائے خارجہ سے بھی رابطہ کیاتھا‘عراقی وزیراعظم علی فالح الزیدی نے اعلان کیا ہے کہ عراق ہمسایہ ممالک کے خلاف حملوں کیلئے لانچنگ پیڈ نہیں بنے گا۔شامی خبررساں ادارے سانا کے مطابق عراقی وزیراعظم نے کہا کہ عراقی سرزمین سے ہمسایہ ممالک کے خلاف کسی بھی سرگرمی کو روکا جائے گا، ہم اپنی سرزمین پڑوسی ممالک کیخلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے، عراق کی سلامتی اور قومی خودمختاری کا تحفظ اولین ترجیح ہے