صنعا: یمن میں مختلف محاذوں پر لڑائی میں شدت کے باعث جنگی زخمیوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے، جس سے پہلے ہی کمزور طبی نظام شدید دباؤ کا شکار ہوگیا ہے۔
بین الاقوامی کمیٹی برائے ریڈ کراس نے خبردار کیا ہے کہ کئی علاقوں کے اسپتال زخمیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو سنبھالنے میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق محاذِ جنگ کے قریب واقع اسپتالوں، خصوصاً مأرب، تعز اور بحیرۂ احمر کے ساحلی علاقوں میں طبی عملے کو اسلحے سے زخمی ہونے والے مریضوں کی غیر معمولی تعداد کا سامنا ہے۔انسانی ہمدردی کے ادارے کے مطابق بعض طبی مراکز میں صرف ایک ہفتے کے دوران 700 سے زائد زخمیوں کو داخل کیا گیا، جس سے محدود طبی وسائل پر دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔اقوام متحدہ کی بین الاقوامی تنظیم برائے مہاجرت (آئی او ایم) کے مطابق یمن میں حالیہ ہفتوں کے دوران لڑائی دوبارہ شروع ہونے کے بعد دو لاکھ سے زیادہ افراد اپنے گھروں سے نقل مکانی کرچکے ہیں۔حالیہ جھڑپوں کا تعلق ایران کے حمایت یافتہ حوثی گروپ اور سعودی عرب کی حمایت یافتہ یمنی حکومتی فورسز کے درمیان دوبارہ شروع ہونے والی لڑائی سے ہے۔
مختلف محاذوں پر جاری جھڑپوں نے شہری آبادی اور طبی سہولتوں کے لیے مشکلات میں اضافہ کردیا ہے۔یمن کا صحت کا نظام طویل عرصے سے جاری تنازع، محدود وسائل اور طبی سہولتوں کی کمی کے باعث پہلے ہی کمزور ہے۔ زخمیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے باعث اسپتالوں کو علاج، بستروں اور دیگر ضروری طبی وسائل کی فراہمی میں مزید مشکلات پیش آرہی ہیں۔ریڈ کراس کی تنبیہ یمن میں بگڑتی ہوئی انسانی صورت حال کی عکاسی کرتی ہے، جہاں ایک طرف بڑی تعداد میں لوگ بے گھر ہورہے ہیں، تو دوسری جانب جنگی زخمیوں کو بروقت طبی امداد فراہم کرنا بھی مشکل ہوتا جارہا ہے۔