ویب ڈیسک:وزیر دفاع خواجہ آصف نے اپنے بیان میں بشریٰ بی بی کے حالیہ متنازعہ بیان پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے اور کہا کہ جنرل باجوہ کو چاہیے کہ وہ بشریٰ بی بی کے بیان کی خود تردید کریں۔
خواجہ آصف نے بیان دیا کہ پی ٹی آئی کی سیاسی کشتی ڈوب رہی ہے اور اس کا بچاؤ کرنے کے لیے سعودی عرب سے متعلق بیان دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بشریٰ بی بی کے بیان میں ایک قسم کی سیاسی اور مذہبی دیوالیہ پن نظر آتا ہے، اور اس کے ذریعے پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات پر حملہ کیا گیا ہے۔خواجہ آصف نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کے اندر ایک قسم کی خاندانی کشمکش چل رہی ہے، اور یہ سیاست کے بدصورت پہلو کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بشریٰ بی بی نے سیاسی وراثت کا دعویٰ کیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ موروثی سیاست میں مبتلا ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ جب ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں توشہ خانہ سے متعلق بات ہوئی تو معلوم ہوا کہ سب سیاسی رہنماؤں نے تحفے لیے، اور بانیٔ پی ٹی آئی پر الزام ہے کہ انہوں نے تحفے بیچ کر غیر قانونی طور پر پیسہ بنایا۔
وزیر دفاع نے خیبر پختونخوا میں حالیہ خون ریزی کا ذکر کیا اور سوال اٹھایا کہ وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا نے دہشت گردی کے خلاف کیا اقدامات کیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کی حکومت نے دہشت گردی کے خلاف کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔خواجہ آصف نے عمران خان کے حالیہ بیانات کا ذکر کیا، جس میں عمران خان نے کہا کہ سیاستدانوں سے رابطے ہیں، جبکہ پی ٹی آئی کے بانی نے اس سے قبل اسٹبلشمنٹ سے بات کرنے کا عندیہ دیا تھا۔ خواجہ آصف نے کہا کہ پی ٹی آئی رہنماؤں کو اس بات میں کوئی دلچسپی نہیں کہ عمران خان کو رہا کیا جائے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ عدالت کے فیصلے پر پوری قوت کے ساتھ عمل درآمد کیا جائے گا، اور ریاست اور عوام مل کر دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کریں گے۔ خواجہ آصف نے پی ٹی آئی کے رہنماؤں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پہلے یہ لوگ امریکا کے غلامی کے خلاف نعرے لگاتے تھے اور اب سعودی عرب کے غلامی کے خلاف نعرے لگانے کی تیاری کر رہے ہیں۔آخر میں، خواجہ آصف نے خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ گنڈاپور پر بھی الزام لگایا کہ انہوں نے ایک سیاسی جملہ کہا تھا جو بانیٔ پی ٹی آئی سے متعلق تھا، اور اس کا مقصد سیاسی باتوں سے زیادہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ روابط کا استحکام تھا۔