وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیرِ صدارت محکمہ زراعت کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں کسان کارڈ، زرعی میکانائزیشن اور کسانوں کی فلاح سے متعلق مختلف منصوبوں پر پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں بریفنگ دی گئی کہ پنجاب بھر میں اب تک 9 لاکھ کسان کارڈ جاری کیے جا چکے ہیں، جبکہ کسانوں کو 360 ارب روپے کے بلاسود قرضے فراہم کیے گئے ہیں۔ بریفنگ کے مطابق وزیراعلیٰ کسان کارڈ کے تحت جاری قرضوں کی ریکوری کی شرح 99 فیصد رہی، جبکہ قرضوں کا 80 فیصد حصہ کسانوں نے کھادوں کی خریداری پر خرچ کیا۔اجلاس کو بتایا گیا کہ پنجاب بھر میں تین مراحل کے دوران 34 ہزار گرین ٹریکٹرز تقسیم کیے جا رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ مریم نواز نے کہا کہ پنجاب کی تاریخ میں پہلی بار تین سال کے دوران 50 ہزار ٹریکٹرز کسانوں میں تقسیم کیے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ ٹریکٹروں کی تقسیم کے عمل کو انسانی مداخلت سے پاک کرتے ہوئے مکمل طور پر کمپیوٹرائزڈ کر دیا گیا ہے، جبکہ نئے فیلڈ سروے کے ذریعے 12 ہزار 650 ٹریکٹروں کی جسمانی تصدیق بھی مکمل کر لی گئی ہے۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ زرعی ترقی کے لیے 3 ہزار ایگری گریجویٹس کو انٹرن شپ پروگرام میں شامل کیا گیا، جنہوں نے صوبے کی 12 ملین ایکڑ اراضی پر کسانوں کو زرعی توسیعی خدمات فراہم کیں۔بریفنگ کے مطابق انٹرن شپ مکمل کرنے والے 30 فیصد گریجویٹس مستقل ملازمت حاصل کر چکے ہیں، جبکہ مختلف سرکاری اور نجی اداروں میں ان کی جاب پلیسمنٹ کی شرح 50 فیصد رہی۔ اجلاس میں پروگرام کے اگلے مرحلے میں مزید 1500 ایگری گریجویٹس کو شامل کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔