فنڈ کی قلت پر زیرِ زمین پارکنگ کے دونوں بڑے منصوبوں کا تعمیراتی کام سست
لاہور (خصوصی رپورٹ)پنجاب حکومت کی جانب سے قائم کی جانے والی نئی لہر اتھارٹی خود مالی مشکلات کے بھنور میں پھنس گئی۔سابق وزیراعظم نواز شریف کے حکم پر بننے والی یہ اتھارٹی لاہور میں زیرِ زمین پارکنگ کے بڑے منصوبے مکمل کرنے میں ناکام دکھائی دے رہی ہے۔فنڈ کی کمی نے نا صرف منصوبوں کی رفتار کو متاثر کیا ہے بلکہ ٹھیکیدار بھی شدید پریشانی سے دوچار ہیں۔نیلا گنبد اور ناصر باغ پارکنگ پلازہ کے منصوبے تاحال تعطل کا شکار ہیں۔ اتھارٹی کو لاہور کے مختلف علاقوں میں زیرِ زمین پارکنگ پلازے تعمیر کرنے کا ٹاسک دیا گیا مگر فنڈ کی عدم دستیابی نے منصوبوں کو عملی شکل اختیار کرنے سے روک دیا ہے۔لہر اتھارٹی کے تحت سب سے پہلا منصوبہ نیلا گنبد پارکنگ پلازہ تھاجس پر تعمیراتی کام کا آغاز ہوچکا ہے۔منصوبے کی تخمینہ لاگت 2400 ملین روپے رکھی گئی تاہم ابتک صرف 75 ملین جاری کیے گئے۔یہ قلیل فنڈ بھی والڈ سٹی اتھارٹی کے پاس موجود ہیں ، منصوبہ مکمل کرنیوالی ایجنسی ٹیپا کو تاحال منتقل نہیں ہو سکے۔ذرائع کے مطابق نیلا گنبد پر ابتک 20 کروڑ خرچ ہو چکے ہیں ، مزید ادائیگی نہ ہونے پر ٹھیکیدار ہاتھ کھڑے کرنے پر مجبور ہو گیا ہے۔تعمیراتی عمل سست روی کا شکار ہے اور منصوبہ تقریباً رک چکا ہے۔لہر اتھارٹی کے دوسرے منصوبے ناصر باغ پارکنگ پلازہ کی صورتحال بھی کچھ مختلف نہیں،پی سی ون منظور ہو چکا ہے اور تخمینہ لاگت 1800 ملین روپے رکھی گئی ہے لیکن اسے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل ہی نہیں کیا گیا۔پنجاب کابینہ کی منظوری نہ ملنے پر منصوبہ کاغذوں تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ لاہور میں بڑھتے ٹریفک دبا ئو کے پیشِ نظر زیر زمین پارکنگ کی اشد ضرورت ہے، فنڈ ریلیز نہ کیے گئے تو نیلا گنبد اور ناصر باغ پارکنگ پلازے تعمیر نہ ہونے سیشہر میں پارکنگ بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔