ویب ڈیسک: پاکستان سپر لیگ (PSL) کے آئندہ سیزن سے متعلق تشویشناک اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، کیونکہ لیگ کے حوالے سے کئی اہم فیصلے تاحال نہیں ہو سکے۔
معروف اسپورٹس صحافی سلیم خالق کے مطابق، پی ایس ایل اس وقت انتظامی اور مالی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔ فرنچائزز کی ویلیوایشن، نئی ٹیموں کی فروخت اور کمرشل معاہدوں کی تجدید جیسے اہم امور تعطل کا شکار ہیں۔ذرائع کے مطابق، پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے فرنچائزز کی ویلیوایشن چھ ہفتوں میں مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا تھا، لیکن انتظامی پیچیدگیوں کے باعث یہ عمل سست روی کا شکار ہو گیا ہے۔یہ تاخیر فرنچائز مالکان کے لیے تشویش کا باعث بن گئی ہے کیونکہ مالیاتی غیر یقینی صورتحال کے سبب وہ کھلاڑیوں کی ریٹینشن، بجٹ سازی اور تشہیری منصوبوں کے حوالے سے فیصلے نہیں کر پا رہے۔
دوسری جانب، کئی کمرشل پارٹنرز نے بھی اپنے معاہدوں کی تجدید اس وقت تک مؤخر کر دی ہے جب تک ویلیوایشن کا عمل مکمل نہیں ہو جاتا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پی سی بی پر اب دباؤ بڑھ گیا ہے کہ وہ ان امور کو جلد از جلد حتمی شکل دے تاکہ پی ایس ایل 11 کی تیاریوں کو آگے بڑھایا جا سکے۔ادھر پی ایس ایل 11 کے شیڈول کا اعلان بھی تاحال نہیں کیا جا سکا۔ عام طور پر لیگ فروری اور مارچ میں منعقد ہوتی ہے، تاہم اس سال ٹی20 ورلڈ کپ کی مصروفیات کے باعث شیڈول میں تبدیلی کا امکان ہے، اور یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ ٹورنامنٹ اپریل یا مئی 2026 میں کھیلا جا سکتا ہے۔