صدر ٹرمپ کی شاندار قیادت کے باعث غزہ معاہدے کا تاریخی لمحہ دیکھ پائے شہباز شریف

 دنیا کو یقینی بنانا ہوگا  اس قسم کے واقعات دوبارہ کسی  خطے میں رونما نہ ہوں‘بہادر فلسطینی عوام 1967 سے پہلے کی سرحدوں کے ساتھ ایک آزاد  ریاست، جس کا دارالحکومت القدس شریف ہو،  اس میں رہنے کا پورا حق رکھتے ہیں:وزیراعظم
وزیراعظم کی شرم الشیخ میں امن سربراہ اجلاس کے موقع پر آذربائیجان کے صدر‘ آرمینیا کے وزیراعظم ‘اردن کے شاہ عبداللہ دوئم، بحرین کے شاہ ‘ انڈونیشیا کے صدر‘سپین کے وزیراعظم ‘ سعودی عرب کے وزیر خارجہ  اور فلسطین کے صدر سے ملاقاتیں
شرم الشیخ (  آن لائن‘مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم پاکستان  محمد شہباز شریف  نے مصر کے سیاحتی و سفارتی شہر شرم الشیخ  میں منعقد ہونے والی  تاریخی  غزہ امن منصوبے  کی دستخطی تقریب میں شرکت کی، جسے  مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن  کی جانب ایک  نمایاں اور امید افزا سنگ میل  قرار دیا جا رہا ہے۔وزیراعظم نے تقریب میں شرکت سے قبل ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے بیان میں کہاالحمدللہ، آج صبح شرم الشیخ میں تاریخی غزہ امن منصوبے پر دستخط کی تقریب میں شرکت کے لیے پہنچا ہوں، جو کہ مشرق وسطیٰ میں دیرپا امن کی جانب ایک اہم قدم ہے۔وزیراعظم نے  مصری صدر عبدالفتاح السیسی  اور  امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ  کا خصوصی شکریہ ادا کیا، جو اس اہم امن سربراہی اجلاس کے شریک میزبان  تھے۔انہوں نے کہا صدر ٹرمپ کی شاندار قیادت اور غیر متزلزل عزم کے بغیر ہم یہ تاریخی لمحہ نہ دیکھ پاتے۔ ان کی خصوصی توجہ اور مسلسل کوششوں کی بدولت ہی غزہ میں جاری قتل و غارت گری کو روکنا ممکن ہوا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے تقریب کو  نسل کشی کے ایک تاریک باب کے اختتام  سے تعبیر کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا کہ دنیا کو یقینی بنانا ہوگا کہ اس قسم کے واقعات دوبارہ کسی بھی خطے میں رونما نہ ہوں۔  انہوں نے فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت پر دوٹوک مؤقف اپناتے ہوئے کہا بہادر فلسطینی عوام 1967 سے پہلے کی سرحدوں کے ساتھ ایک آزاد  ریاست، جس کا دارالحکومت القدس شریف ہو، میں رہنے کا پورا حق رکھتے ہیں۔ دریں اثناء وزیرِاعظم شہباز شریف کی شرم الشیخ میں امن سربراہ اجلاس کے موقع پر عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں ہوئیں۔وزیراعظم کی آذربائیجان کے صدر الہام علیوف سے ملاقات ہوئی، دونوں رہنماؤں نے غزہ جنگ بندی پر اظہار اطمینان کیا، اس موقع پر آرمینیا کے وزیراعظم نکول پاشنیان بھی ملاقات و گفتگو میں شریک ہوئے۔اردن کے شاہ عبداللہ دوئم، بحرین کے شاہ حمد بن عیسی الخلیفہ سے بھی وزیراعظم کی ملاقات ہوئی، جبکہ وزیراعظم کی اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس سے بھی ملاقات ہوئی۔وزیراعظم کی انڈونیشیا کیصدر پربوو صوبیانتو، جرمن چانسلر فریڈرک مرز، اسپین کے وزیراعظم پیڈرو سانچیز، اٹلی کی وزیراعظم جیورجیا میلونی سے بھی ملاقات ہوئی۔وزیراعظم کی سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آلسعود سے بھی ملاقات ہوئی، ملاقاتوں میں خطے میں امن کے لیے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا، وزیراعظم نے فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی اور ان کی سفارتی و اخلاقی مدد جاری رکھنے کا اعادہ کیا۔شہباز شریف کی شرم الشیخ میں فلسطین کے صدر محمود عباس سے ملاقات ہوئی، بحرین کے فرمانروا شاہ حمد بن عیسی الخلیفہ بھی ملاقات و گفتگو میں شریک تھے۔صدر محمود عباس نے فلسطینیوں کی سیاسی و سفارتی مدد پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا، دونوں رہنماؤں نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فلسطین اور پاکستان کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعقات مثالی ہیں۔