محمد علی پاکی
اس دنیا میں سب سے بڑا خسارہ مال و دولت کا خسارہ نہیں بلکہ اپنے رب کو کھو دینے کا ہے۔ جس نے رب کھو دیا اسنے دنیا و آخرت کھو دیا۔ رب کو پانا یہ نہیں کے ہم نے صرف رب کو یاد رکھا ہے یاد تو ہم اپنے عزیزو اقارب کو بھی رکھتے ہیں اور ان کیلئے کیا کچھ نہیں کرتے مگر اپنے رب کو یاد تو رکھتے ہیں مگر اس عظیم رب کیلئے کچھ نہیں کرتے۔ وہ صرف کہتا ہے مغفرت چاہتے ہو تو نماز کی طرف آو اور اسکے بندوں کی مدد کرو اور ان سے اچھا سلوک کرو۔
ہم اپنے اندر رب کے قرب کی جستجو پیدا کرنے کی کوشش نہیں کرتے۔ یہ مت بھولیں کے ہدایت صرف ان کے دل کو ہی ملتی ہے جن کے دل میں تھوڑی بھی تڑپ اپنے رب کو راضی کرنے کی ہو۔
۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے !
" چند روز دنیا کے مزے ہیں (لوٹ لو) پھر تمہیں ہماری طرف پلٹ کر آنا ہے، اس وقت ہم تمہیں بتا دیں گے کہ تم کیا کچھ کرتے رہے ہو "(سور? یونس ۳۲)
خسارہ صرف مال و متاع کا کھو جانا نہیں بلکہ اللّٰہ کی جانب جانے والے رستے کو بھلا دینا اور بہت تھوڑی دنیا کی زندگی کے لیے اپنی آخرت تباہ کر بیٹھنا اصل میں عین خسارہ ہے۔
سب سے بڑا خسارہ جو ہماری سوچ سے بھی زیادہ ہے اور ہم جانتے بوجھتے اس پر سوچتے بھی نہیں، نہ ہی ہمارے پاس وقت ہے۔ وہ خسارہ اور ہماری سب سے بڑی کوتاہی نماز کا نہ ادا کرنا ہے جبکہ ہماری نجات کا واحد ذریعہ یہ نماز ہی ہے۔ دنیا کے سارے کام ہم وقت پر کرتے ہیں اور اس کیلئے پوری کوشش اور اپنی جان تک لگا دیتے ہیں نہیں کوشش کرتے تو وہ ایک فقط نماز ہے جس سے ہماری نجات اور بخشش ہے۔
قبر اور حشر میں ہونے والے سوالات میں نماز بھی ہے جو ہمیں رسوائی اور ذلت سے بچا سکتی ہے اور دنیاوی امور میں بھی ہمارے لئے نفع بخشش ہے مگر ہم دولت اور مال کے حصول اور اسکے کم ہوجانے پر تگ و دود کرتے ہیں یا پریشان ہوتے ہیں لیکن نماز کے ادا نہ کرنے یا اس کے قضاء ہوجانے پر ہم پشیمان نہیں ہوتے، مظطرب نہیں ہوتے اور ہمارا ایک ایک پل سکون اور اطمینان پر محیط ہوتا ہے۔ نماز ہی ہمیں روز محشر عذاب اور جہنم سے بچائے گی جسکی مثال اس روایت میں ہے کے بندوں کو جہنم میں ڈالنے کے ایک عرصہ بعد رب فرشتوں سے فرمائے گا کے میرے ان ان بندوں کو جنت میں ڈال دیا جائے۔ فرشتے پوچھیں گے کے ہمارے رب ہم انہیں کیسے پہچانیں۔ رب فرمائے گا کے انکو انکی پیشانیوں سے پہچانوں جو نماز پڑھتے تھے ان کی پیشانیوں آگ سے بچی ہوں گی جبکہ پورا جسم عذاب کی وجہ سے جلا ہوا
ہوگا۔ جس مومن نے سچی نیت، صدق دل اور ایمان سے اپنے رب کے عبادت و تعریف کی سجدہ کیا اور پورے خلوص، نیک نیتی کے ساتھ سربسجود ہوا وہ مومن عذاب سے بچ جائے گے یعنی سراسر خسارہ، گھاٹے اور بربادی سے ان کی خلاصی ہو جائے گی۔
اسکے علاؤہ ہم دنیاوی کاموں میں کوئی اچھا کام کریں تو اسکا صلہ چاہتے ہیں بالکل اسی طرح دینی اچھے کاموں کا بھی بے انتہا اجر ہے۔ رب ہماری شہ رگ سے بھی قریب ہے وہ اس بات کا متمنی رہتا ہے کے بندہ اس سے کچھ مانگے۔وہ رات کے آخری پہر اپنے بندوں کیلئے نیچے آسمانوں میں آتا ہے کے ہے کوئی سوالی جو اپنے رب سے کچھ مانگے اور اس پاک ذات کی حمدوثنا بیان کرے۔ فجر اور تہجد خاموش نمازیں ہیں ان میں بہائے گئے آنسو کی صدا صرف ہمارا رب سنتا ہے اس پل میں مانگی گئی دعائیں بہت اثر رکھتی ہیں۔جب نماز کی طرف آئیں گے تو تہجد اور فجر کے بھی متلاشی ہوں گے اور اس تلاش کی راہ میں آپ اپنے رب کو پالیں گے اور اپنی بات منوانے کا حق بھی رکھتے ہیں۔
ہمارا فرض اور زمہ داری ہے کے ہم خود بھی دنیاوی اور اخروی خسارہ سے بچیں اور اپنے اہل و عیال اور دوست احباب کو بھی اس خسارہ سے بچنے کے دعوت دیں۔ یہی ہماری دنیا اور اخرت کا مال و متاع ہے اور سراسر خسارہ سے بچاؤ کا ذریعہ بھی۔
علی پاکی