عبدالرزاق برق
کم وپیش ملک میں دوسال کی تلخیوں بلکہ گالم گلوچ الزام تراشی ماردھاڑ اوردھمکیوں کے بعدوفاقی حکومت نے 5سیاسی جماعتوں کے ساتھ ملک کی سب سے بڑی پارٹی تحریک انصاف سے مذاکراتی کمٹیوں کاایک اہم اجلاس پارلیمینٹ ہاوس میں تلخ سیاسی ماحول میں منعقدکرکے بات چیت کے لئے ایک میزپربیٹھ گئے ہیں جنہیں ایک مثبت پیش رفت اورایک مثالی قدم قراردیاجاسکتاہیے اگرچہ وفاقی حکومت اور تحریک انصاف نے ایک درست اورسیاسی حکمت سے بھراہوا مذاکرات کاشروع کرنا ایک بہترین فیصلہ کیاہیے لیکن خدشات وتوقعات کے درمیان بات چیت کا آغاز بذات خود ایک بڑی کامیابی ہیے تحریک انصاف کی سنجیدگی کااندازہ اس سے لگایاجاسکتاہیے کہ ان کی کمیٹی کے ارکان پورے نہ ہونے کے باوجود انہوں نے کوئی عذرنہیں کیا بلکہ جولوگ دستیاب تھے انہی کے ساتھ آغازکردیا ہیے اورانہوں نے عدم تشدداورمکالمے پریقین رکھنے والے اراکین کو بات چیت کی۔زمہ داری تفویض کرکے کم ازکم اپنے بعض سابقہ فیصلوں سے رجوع کااشارہ دیا جس سے مذاکرات کے اس پہلے دورنے ہی ناامیدی کی شپ تاریک میں امیدکاچراغ روشن کردیا ہیے اورعوام کے دلوں میں خدشات کے ساتھ ساتھ محتاط امیدیں جگا دی ہیں شک وشہبات اورمثبت توقعات کے درمیان مذاکرات کونتیجہ خیزبنانے کی خاطرلازم ہیے کہ فریقین پہلی فرصت میں چنداقدامات کریں جن کے لئے کسی معاہدے کی ضرورت نہیں ان میں ایک دوسرے کے لئے غیرمہذب زبان کے استعمال بیرون ملک بیٹھے شرارتی عناصر سے مکمل علحیدگی قومی سویلین اورعسکری قیادت پرفحش زبان میں تنقیدکرنا شامل ہے ماحول کوسازگار رکھنے کیلئے شعلہ نوارہنماوں سے خاموش رہنے کی گزارش کی جائے مذاکراتی کمیٹیاں اس امرکااحساس کریں کہ ملک سیاسی عدم استحکام کے باعث آگے نہیں بڑھ رہا عام آدمی کو نظراندازتصورکرنے لگا ہیے اورامید کی جانی چاہئے کہ یہ عمل صرف دکھاوانہیں ہوگا بلکہ اس کے ٹھوس نتائج برآمد ہوں گے حکومتی کمیٹی میں اسحاق ڈار عرفان صدیقی اورپرویزاشرف جیسے لوگوں کی موجودگی خوش آئند ہیے اسی طرح جب حکومت نے کمیٹی میں سب اتحادوں کو شامل کیاہیے تو تحریک انصاف کوبھی یہ عمل کرنا چاہئے تھا کہ وہ اپنے کمیٹی میں محمودخان اچکزئی مولانا فضل الرحمٰن اخترمینگل کے لوگوں کو شامل کرنا چاہئے تاکہ یہ حکومت اورآپوزیشن کے مذاکرات بن جائے گے جس میں ملک کی سیاست اوردیگرمعاملات پر کھل کربات ہوسکے گی مگر سب سے پہلے اہم سوال یہ ہے کہ پی ٹی آئی کے جو اہم مطالبے ہیں کیا وفاقی حکومت کے پاس یہ۔اختیار ہیے کہ وہ پی۔ٹی آئی کے اہم مطالبے مان لیں ؟پی ٹی آئی۔وفاقی حکومت کے درمیان مذاکرات کا پہلا۔راونڈ ایک ایسے وقت میں شروع کیا گیا ہے کہ 9مئی کے واقعات میں ملوث کئی لوگوں کوفوجی عدالتوں سے سنگین سزائیں بھی سنادی گئی ہیں تحریک انصاف کاپہلا مطالبہ حکومت سے یہ ہیے کہ بانی پی۔ٹی آئی عمران خان کو رہا کیا جائے اور جن کارکنوں کے خلاف مقدمات بنائے گئے ہیں اس کو ختم کیاجائیں توکیا وفاق حکومت کے پاس یہ۔اختیارہیے کہ۔وہ بانی تحریک انصاف اور تحریک انصاف کے گرفتارکارکنوں کو رہاکریں حکومت کے پاس آئین وقانون کے تحت مقدمہ بنانے کااختیارتوہیے مگر مقدمہ ختم کرنے کا اختیارنہیں ہیے مقدمہ ختم کرنے کااختیار عدالت کے پاس ہیں کہ وہ کسی کو سزادے یابری کردے حکومت کے پاس پکڑنے کااختیارہیے چھوڑنے کا کوئی اختیارنہیں چھوڑنے کااختیاربھی پھرعدالت کے پاس ہیے ایسا اختیارسابق صدرپرویزمشرف نے استعمال کیا تھا جب انہوں نے ایک nro نامی آرڈنس سے پیپلزپارٹی باالخصوص بے نظیر بھٹو کے تمام مقدمات ختم کردیئے تھے مگرپاکستان کی عدالتوں نے نہ صرف اس آرڈنس کو اٹھا کر ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا بلکہ مقدمات بھی بحال کردیئے تھے اورnro کو ایک گالی بنادیا اس طرح بانی تحریک انصاف کی جانب سے مزاکرات کے نتائج کوتسلیم کرنے کی کیاضمانت ہوگی ؟کیا تحریک انصاف ملک میں ہونے والے گزشتہ انتخابات کے نتائج کو تسیلم کریں گے ؟کیا وفاقی حکومت تحریک انصاف کے بقول گزشتہ انتخابات میں چوری کیاگیا منڈیٹ انہیں واپس دینے کی صلاحیت رکھتا ہیے البتہ pti حکومت کوپرامن سیاسی ماحول اوربیرون ملک حکومت مخالف سرگرمیوں میں کمی یاان کو ختم کرنے جیسی چیزیں آفرکرسکتی ہیے تحریک انصاف نے سول نافرمانی کے نتیجے میں اورسیززجو بیرون ممالک سے سالانہ 32ارب ڈالر بھجتے ہیں کیا حکومت سے مذاکرات شروع کرنے سے اورسیززاسی طرح اپنے پیسے بھجتے رہیے گے؟ اب جب مذاکرات کے دوسرے راونڈ میں تحریک انصاف تمام قیدیوں کی لسٹ حکومت کو رہائی کیلئے پیش کریں گے توحکومت کیاکرے گی وہ پی ٹی آئی کو یہی کہے گی کہ عدالت جائیں وہاں سے ضمانتیں لیں اوراپنے مقدمات ختم کروائیں ہم کیا کرسکتے ہیں ؟اب جب حکومت کے پاس تحریک انصاف کے ایک بھی مطالبہ ماننے کی طاقت اوراختیارنہیں رکھتی اس لئے ان کی کامیابی کے امکانات کم ہی نہیں بلکہ ناممکن ہی ہیں کیونکہ عمران خان جس گرداب میں پھنس چکا ہیے وہاں سے نکلنے کے لئے اسے یاتو کامیاب مذاکرات چاہیے یا پھر Nro ورنہ اس ملک کی عدالتوں سے اتنے مقدمات میں جلدگھرآنے کی توقع نہ رکھے 9مئی کے حوالے سے کسی بھی قسم کے مذاکرات یامعافی دراصل 9مئی کرنے کی۔اجازت دینے کے مترادف ہوگا حکومت سے مذاکرات شروع کرنے سے قبل بانی تحریک انصاف عمران خان نے یہ بھی کہاتھا کہ میں مرجاوں گا لیکن چوروں سے nroنہیں لوگا اب سوال یہ پیدا ہوتا ہیے جب حکومت کے پاس نہ اختیار ہیے نہ تحریک انصاف کو ضمانت دے سکتا ہیے اوروہ نہ کوئی مذاکراتی فیصلہ کرسکتے ہیے توحکومت نے پانچ سیاسی پارٹیوں پرمشمل حکومتی کمیٹی کیوں بنائی ؟کیوں تحریک انصاف سے مذکرات شروع کئیے ہیں ؟ میرے خیال میں حکومت پر عوام کا بہت دباوں ہیں اورعوام کاکہنا ہیے کہ۔اس وقت ملک تلخیوں اورسیاسی عدم استحکام بحران سے دوچار ہیں ان تلخیوں سیاسی عدم استحکام اوربحران کیخاتمے کے لئے قومی۔اسمبلی کے اسپیکرکو کردار اداکرنا چاہیے کیونکہ ملک کوبحرانوں سے نکالنے کاواحدراستہ مذاکرات ہیں کوئی بھی جماعت مذاکرات کے لئے پیشگی شرائط نہ لگائے سپیکرڈرائیورنگ سیٹ پربھٹیں پارلیمنٹ جمہوریت کی مظبوطی کے لئے سب کومل۔کر کام کرنا ہوگا پارلیمنٹ میں جسطرح حکومتی طاقت اپوزیشن کوکچلتی ہیے اس میں یہ گنجائش نہیں رہتی کہ حکومت دوسرے فریق کادرست موقف توجہ سے سنیے یہی حال اپوزیشن کا ہوتاہیے جوپارلیمنٹ سے زیادہ سڑکوں پررہ کراحتجاج کرتی ہیے دونوں کاطریقہ کاراپنی اپنی سیاست کی بقاکے لئے ٹھیک ہوسکتاہیے لیکن اس کا ملک اورعام آدمی کوکوئی فائدہ نہیں ہوا کیونکہ تحریک انصاف نے بہت سے احتجاج کردیا جس سے وہ جوکچھ حاصل کرنا چاہتے تھے وہ نہیں ہوپایئے اورنہ ہی حکومت سے اپنے مطالبات منواسکے اورباربار احتجاجی مظاہروں کے بعدعوامی طاقت کے زریعے مطالبات منوانے کی صلاحیت کم ہوتی جارہی تھی اوراب اپنا حکمت عملی پرنظرثانی کرکے حکومت سے مذاکرات کرنے میں مصروف ہوگئے ہیں یہ اس لئے کہ تحریک انصاف کے اندراورباہر بھی بہت سے ایسے لوگ موجود ہیں جوان کی قیادت کو کافی عرصے سے مذاکرات کا آپشن آزمانے کا مشورہ دے رہے تھے لیکن اب فی الحال نہ ڈیل نہ راضی نامہ نہ مقدمات کاخاتمہ اورنہ ہی رہائی ممکن ہیے البتہ یہ۔بلی چوہیے کاکھیل اگلے تین ماہ تک کھلاجائیگا مارچ 2025 میں یہ۔بیل منڈیرپرچڑھ سکتی ہیے مگر یہ فوٹوسیشن جاری رہے گے اورنہ کھبی مذاکرات کامیاب ہوں گے نہ ہی نتیجہ۔خیزہوں گے وہی پرانی بات کہ جب تک اصل حکمران نہیں چاہیں گے حکومت اورآپوزیشن کے درمیان مذاکرات کے دوران امریکی مشیررچرڈ گرنیل کاگزشتہ ھفتے ایک ٹویٹ عمران خان رہا کرو free imrankhanکے سامنے آنے سے پاکستان کی۔سیاسی صورتحال میں ہلچل مچادی اوراس ٹویٹ یاایکس نے حکومت وقت کوبھی پریشان کردیا اورحکومتی مشیراندرسے خوفزدہ ہیں مگروہ کہتے ہیں کہ پاکستان ایک خودمختارملک ہیے وہ کسی کی بات مانے یانہ مانے پہلے بھی ہم نے شکیل آفریدی کو چھوڑنے کی بات نہیں مانی امریکہ نے ہمارا کیا کرلیا لہذا امریکہ پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرسکتا کوئی ان مشیروں سے پوچھے کہ نوازشریف کوپرویزمشرف سے لیکرسعودی عرب بھجاگیاتھا وہ امریکی مداخلت نہیں تھی لیکن جب ڈونلڈ ٹرمپ چنددنوں میں اقتدارسنبھالیں گے توعمران خان کے لئے آسانیاں پیداہوجائیں گی جبکہ ن لیگ چاہیتے ہیں کہ عمران خان کوسزاہوجائے عمران خان نے اپنے اقتدارکے آخری دنوں میں امریکی مداخلت کے خلاف آبسلوٹلی ناٹ کانعرہ لگایاتھا لیکن تھے وہ مغرب اورامریکہ کے آدمی شواہدہی ثابت کررہیے ہیں کہ یہ پاکستانی سیاست دانوں کاوطیرہ ہیے کہ وہ کہتے اور ہیں کرتے اور ہیں ان کا ظاہراورہیے اورباطن اورہیے یہ صرف عمران خان کی باتیں نہیں بلکہ سارے ایک جیسے ہیں ویسے یہ سوال بھی بنتا ہیے کہ جوامریکہ رجیم چینج کے زریعے عمران خان کو آبسلوٹلی ناٹ کہنے پرہٹا رہاتھا وہ آج اس کی حمایت میں کیوں کھڑا ہوگیا ؟