بالی ووڈ کے سینئر اداکار دھرمیندر کی طبیعت اچانک بگڑنے کے بعد انہیں ممبئی کے بریچ کینڈی اسپتال میں داخل کیا گیا تھا۔
معائنے کے دوران ان کی طبیعت میں بگاڑ پیدا ہوا، جس کے بعد ڈاکٹروں نے کچھ دن کے لیے انہیں زیر نگرانی رکھنے کا فیصلہ کیا۔ اس دوران، سوشل میڈیا پر ان کی موت کے بارے میں جھوٹی خبریں گردش کرنے لگیں، جس سے مداحوں میں اضطراب پھیل گیا۔یہ افواہیں اس وقت ختم ہوئیں جب 11 نومبر کو ان کی اہلیہ ہیما مالنی اور بیٹی ایشا دیول نے باضابطہ بیانات جاری کیے، جن میں بتایا گیا کہ دھرمیندر زندہ ہیں اور صحت یابی کی جانب گامزن ہیں۔ 12 نومبر کو انہیں اسپتال سے ڈسچارج کر دیا گیا اور اب وہ صحت یابی کی راہ پر ہیں، اور گھر منتقل کیے گئے ہیں۔دورانِ علاج، ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جس نے خاندان اور مداحوں کو غمگین کر دیا۔ اسپتال سے ایک ویڈیو لیک ہوگئی، جس میں دھرمیندر اور ان کے اہل خانہ کے نجی اور جذباتی لمحات دیکھے جا سکتے تھے۔ یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گئی اور عوام نے اسے ’پرائیویسی کی خلاف ورزی‘ قرار دیا۔
فوری طور پر، اسپتال کے ملازم جس نے یہ ویڈیو ریکارڈ یا شیئر کی، اسے پولیس نے حراست میں لے لیا ہے۔ اسپتال انتظامیہ کے مطابق، ملازم کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی ہے، لیکن اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔ خاندان اس حرکت سے بہت ناراض ہے کیونکہ اسپتال کو مریض کی پرائیویسی کا تحفظ اولین ترجیح ہونی چاہیے۔اس پورے واقعہ کے بعد، دھرمیندر کی صحت اور ان کے خاندان کے تحفظ کے لیے پولیس اور اسپتال انتظامیہ نے مل کر کارروائی کی ہے تاکہ ایسے واقعات مستقبل میں نہ ہوں۔