علم اور علم کی اہمیت

 ندیم ملک

جب انسان نے غاروں سے نکل کر تہذیب کی پہلی سیڑھی پر قدم رکھا تو سب سے پہلا عمل "سوال" تھا۔ سوال، علم کی وہ ابتدائی چنگاری ہے جو فکر کی آگ کو بھڑکاتی ہے۔ علم، انسان کی وہ فطری پیاس ہے جو اسے تاریکی میں چراغ ڈھونڈنے، آسمان کی وسعتوں میں جھانکنے، ستاروں سے گفتگو کرنے اور آخرکار اپنے باطن کو پہچاننے پر مجبور کرتی ہے
علم محض معلومات کا انبار نہیں بلکہ ایک شعور ہے، ایک طرزِ نظر، ایک اخلاقی سمت ہے جو انسان کو محض "جانورِ ناطق" سے "انسانِ کامل" تک کا سفر طے کرواتی ہے۔ یہ کائنات کو بے معنی خاموشی سے نکال کر ایک با معنی مکالمے میں تبدیل کر دیتا ہے، جہاں انسان، کائنات اور خالق ایک دوسرے سے معنوی تعلق میں جڑ جاتے ہیں۔
یونانی فلسفی افلاطون (Plato) کے نزدیک:
"علم وہ نور ہے جو روح کو تاریکی سے روشنی کی طرف لے جاتا ہے۔"افلاطون کا یقین تھا کہ تعلیم کا اصل مقصد ذہنی تربیت سے زیادہ روح کی تطہیر ہے۔ وہ علم کو شخصیت کی تکمیل کا ذریعہ سمجھتا تھا۔ اس کے استاد سقراط (Socrates) نے علم کو اخلاقیات کی بنیاد قرار دیا اور کہا:
"ایک نہ جانی جانے والی زندگی جینے کے قابل نہیں۔"یعنی زندگی کا اصل حسن خود شناسی، فہم اور دانش میں ہے، اور اس دانش کا آغاز علم سے ہوتا ہیارسطو (Aristotle)، جسے منطق، سائنس، سیاست اور اخلاقیات کا بانی سمجھا جاتا ہے، اس کے بقول 
"علم وہ زیور ہے جو صرف خوش نصیبوں کو عطا ہوتا ہے۔"
اس کے مطابق علم کا حصول انسان کو ذمہ دار، باشعور اور بااخلاق بناتا ہے۔ یہ اسے خیر و شر کی تمیز سکھاتا ہے، افعال کی جوابدہی کا احساس دلاتا ہے
اسلامی تہذیب میں علم کی بنیاد وحی پر رکھی گئی۔ قرآن مجید کا پہلا حکم "اقراہے، یعنی پڑھ۔
یہ حکم محض مطالعے کا نہیں، بامقصد علم کا ہے وہ علم جو انسان کو اپنے خالق کی پہچان عطا کرے، تخلیق کے اسرار و رموز سے آشنا کرے، اور اسے مخلوقِ خدا کی خدمت کے قابل بنائے
رسولِ اکرم نے فرمایا:علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے۔یہ ارشاد واضح کرتا ہے کہ علم، محض اختیاری عمل نہیں بلکہ عبادت کا درجہ رکھتا ہے ‘امام غزالی، جنھیں "حج الاسلام" کہا جاتا ہے، کا قول ہے:علم بغیر عمل کے بوجھ ہے، اور عمل بغیر علم کے اندھا۔"
یعنی علم، عمل کے بغیر بے معنی ہے، اور عمل، علم کے بغیر اندھا اور بے سمت۔ علم کا اصل مقصد انسان کی اخلاقی تربیت اور کردار سازی ہے
ابن رشد (Averroes)، جو مغرب میں عقل و فلسفے کا ترجمان مانا جاتا ہے، علم کو عقل اور وحی کا سنگم قرار دیتا ہے۔ اس کا ماننا ہے کہ اگر عقل سچائی پر پہنچتی ہے تو وہ وحی کی تصدیق کرتی ہے اور  اس سے ٹکراتی نہیںرومی علم کی اہمیت کے بارے میں  فرماتے ہیں
"علم وہ ہے جو تجھے تیرے باطن کی طرف لے جائے، اگر وہ باہر کی دنیا میں الجھا دے تو وہ جہالت ہے۔"اقبال نے علم کو "خودی" کی پہچان کا ذریعہ کہا اور علمِ خشک سے خبردار کرتے ہوئے فرمایا:
"علم، عشق کے بغیر ایک زہر ہے۔"یعنی اگر علم میں روح، جذبہ اور اخلاق نہ ہو تو وہ تباہ کن ہتھیار بن جاتا ہے۔
ایک اور مقام پر وہ کہتے ہیں:

علم میں بھی سرور ہے لیکن
 یہ وہ جنت ہے جس میں حور نہیں

علم اگر صرف عقل کی سطح پر محدود ہو جائے اور دل کو روشن نہ کرے تو وہ ادھورا ہیآج ہم جس دور میں سانس لے رہے ہیں وہ بظاہر ترقی یافتہ مگر باطن میں کھوکھلا ہے معلومات کا طوفان ہے مگر علم کی پیاس بڑھتی جا رہی ہے ٹیکنالوجی کا ہجوم ہے مگر حکمت ندارد۔ ہم تعلیم یافتہ ہیں، مگر تربیت سے محروم یونیورسٹیاں ڈگریاں بانٹتی ہیں مگر کردار سازی کا کوئی نظام نظر نہیں آتاامریکی فلسفی جان ڈیوی (John Dewey) کا کہنا ہے
"تعلیم زندگی کے لیے تیاری نہیں، تعلیم بذاتِ خود زندگی ہے۔"معروف فزکس دان اسٹیفن ہاکنگ (Stephen Hawking) کے نزدیکسب سے بڑا دشمن جہالت نہیں، بلکہ یہ وہم ہے کہ ہم سب کچھ جانتے ہیں۔"یعنی علم کا سب سے پہلا سبق یہ ہے کہ ہم لاعلم ہیں۔ جوں جوں علم بڑھتا ہے، انسان کو اپنی کم مائیگی کا شعور حاصل ہوتا ہے، اور یہی عاجزی، علم کی معراج ہے‘آج ہمیں اجتماعی طور پر خود سے یہ سوال کرنا چاہیے:کیا ہمارا تعلیمی نظام علم کے اس حقیقی نور کو طلبہ کے دل و دماغ میں منتقل کر رہا ہے؟کیا ہم اپنے بچوں کو صرف سلیبس یاد کرا رہے ہیں یا ان میں حکمت، برداشت، اخلاق، تحقیق، جستجو اور سچائی کا جذبہ بھی پیدا کر رہے ہیں؟علم کی اصل معراج نوکری یا ڈگری نہیں، بلکہ شعور، بصیرت اور خدمت ہے۔ علم کا نور اندھیرے میں روشنی، نفرت میں محبت، اور خود غرضی میں ایثار بن کر جھلکتا ہیاگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا معاشرہ روشنی سے بھر جائے، انتہا پسندی مٹے، مکالمہ فروغ پائے، اور دلوں میں سمجھنے کا حوصلہ پیدا ہو — تو ہمیں علم کو صرف نصاب کا عنوان نہیں بلکہ زندگی کا مرکز بنانا ہو گاہمارے تعلیمی ادارے محض امتحان گاہیں بن کر رہ گئے ہیں۔ ہمیں انھیں ایسی درسگاہوں میں تبدیل کرنا ہو گا جہاں "زندگی" پڑھائی جائے۔ جہاں استاد محض مضمون نہ پڑھائے بلکہ کردار بنائے، جہاں طالب علم نمبر کے پیچھے نہ بھاگے بلکہ مقصد تلاش کرے‘علم، کسی قوم، مذہب یا نسل کی جاگیر نہیں بلکہ ایک آفاقی قدر (Universal Value) ہے۔ وہی قومیں تاریخ میں روشن رہیں جنھوں نے علم کو شمع کی طرح سینوں میں روشن رکھا۔ اندلس، بغداد، سمرقند، نیشاپور اور قرطبہ علم کی روشنی سے جگمگا رہے تھے تو دنیا ان کے قدموں میں تھی‘آج اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری تہذیب دوبارہ عروج پائے، تو ہمیں علم کی عزت کو بحال کرنا ہو گا۔ ہمیں "عالم" کو صرف مولوی یا استاد نہیں بلکہ معاشرے کا محسن اور راہنما تسلیم کرنا ہو گا۔

بقول  علامہ اقبال 

افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارا