سنگین غداری کا کوئی عمل کسی عدالت کے ذریعے جائز قرار نہیں دیا جا سکے گا‘چیف جسٹس کی ریٹائرمنٹ کے بعد عہدہ سینئر ترین جج کو ملے گا:سینیٹ نے دوسری بار27ویں ترمیم منظور کرلی

عاصم منیر چیف آف ڈیفنس فورسز بن گئے قومی اسمبلی نے آرمی ایکٹ کی منظوری دیدی
 پاکستان آرمی ایکٹ 1952، پاکستان ایئرفورس ایکٹ 1953 اور پاکستان نیوی آرڈیننس 1961 میں ترامیم منظور ‘چیف آف ڈیفنس فورسز 5سال تعینات رہیں گے‘ مدت اس دن سے شروع ہوگی جس دن سے نوٹی فکیشن  ہوگا
وزیراعظم چیف آف ڈیفنس فورسز کی سفارش پر کمانڈر نیشنل سٹریٹجک کمانڈ کو مزید3 سال کے لیے دوبارہ تعینات بھی کرسکیں گے‘ 
 مقدمات سننے  کیلئے  بینچ بنانے کا اختیار چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی کمیٹی کو دیا گیا 
سینیٹ نے نئی ترامیم کو دو تہائی اکثریت سے منظور کرلیا، اپوزیشن کا احتجاج  ‘بل کے حق میں 64 اور مخالفت میں 4 ووٹ ڈالے گئے، سینیٹر سیف اللہ ابڑو اور سینیٹر احمد خان نے بھی ترمیم کے حق میں ووٹ دیا 
اسلام آباد(آئی این پی ) قومی اسمبلی نے پاکستان آرمی ایکٹ 1952، پاکستان ایئرفورس ایکٹ 1953 اور پاکستان نیوی آرڈیننس 1961 میں ترامیم کثرت رائے سے منظور کرلیں، آرمی چیف کو اگلے پانچ برس کے لیے چیف آف ڈیفنس فورسز مقرر کردیا گیا۔نجی ٹی وی  کے مطابق قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر کی زیر صدارت شروع ہوا جس میں آرمی ایکٹ 1952 میں ترامیم کا بل پیش کردیا گیا۔بل وزیر دفاع خواجہ آصف نے پیپش کیا جس پر اسپیکر نے رائے شماری کرائی اور ایوان نے اسے کثرت رائے سے منظور کرلیا۔اسی طرح پاکستان ایئرفورس ایکٹ 1953 میں ترامیم اور پاکستان نیوی آرڈیننس 1961 میں ترامیم کا بل بھی خواجہ آصف نے ایوان میں پیش کیا اور اسے بھی ارکان اسمبلی نے ووٹنگ کے ذریعے کثرت رائے سے منظور کرلیا۔ آرمی ایکٹ میں کی گئی ترامیم کے مطابق آرمی چیف ہی چیف آف ڈیفنس فورسز ہوں گے،  چیف آف ڈیفنس فورسز کی مدت اس دن سے شروع ہوگی جس دن سے نوٹی فکیشن جاری ہوگا، جب جنرل کو فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی دی جائے گی تو ذیلی سیکشن دو کے تحت خدمات انجام دیں گے، وفاقی حکومت آرمی چیف (چیف اف ڈیفنس فورسز)کی فرائض اور ذمہ داریوں کا تعین کرے گی۔بل کے متن میں کہا گیا ہے کہ آرمی ایکٹ کی کلاز 8 جی میں بھی ترمیم کے بعد چیئرمین جوائنٹ چیف آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ 27 نومبر 2025 سے ختم تصور ہوگا، آرمی چیف اور چیف آف ڈیفنس فورسز کی سفارش پر وزیراعظم 3 سال کے لیے کمانڈر آف نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ کا تقرر کریں گے، کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ کی شرائط و قواعد و ضوابط کا تعین وزیراعظم کریں گے۔بل کے متن میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم چیف آف ڈیفنس فورسز کی سفارش پر کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ کو مزید تین سال کے لیے دوبارہ تعینات بھی کرسکیں گے، کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ کی دوبارہ تقرری یا توسیع کو کسی بھی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جاسکے گا۔بل میں مزید کہا گیا  کہ آرمی ایکٹ میں ریٹائرمنٹ کی عمر، سروس کی میعاد اور انہیں ہٹانا کمانڈر نیشنل اسٹریجک کمانڈ پر لاگو نہیں ہوگا، کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ بطور جنرل پاکستان آرمی میں اپنی خدمات سر انجام دیں گے‘قومی اسمبلی نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ 2025 بھی منظور کر لیا، پریکٹس اینڈ پروسیجر سے متعلق شق 191 اے کو نکال دیا گیا۔سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی بل بھی کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا۔ بل وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے پیش کیا۔ مقدمات سننے کے لیے بینچ بنانے کا اختیار چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی کمیٹی کو دیا گیا ہے، کمیٹی میں چیف جسٹس سپریم کورٹ کے علاوہ، سینئر ترین جج شامل ہوں گے۔بینچز بنانے والی کمیٹی کے تیسرے رکن جج چیف جسٹس کے نامزد کردہ ہوں گے، کمیٹی کے کسی رکن کی عدم موجودگی میں چیف جسٹس کسی اور جج کو رکن نامزد کر سکیں گے، کمیٹی بینچ بنانے کا فیصلہ اکثریت سے کرے گی۔قبل ازیںسینیٹ نے 27 ویں آئینی ترمیم کی نئی ترامیم کے ساتھ منظوری دیدی،ایوان میں اپوزیشن کی جانب سے احتجاج اور نعرے بازی  کی گئی ۔جمعرات کوسینیٹ کا اجلاس چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کی سربراہی میں ہوا جس میں  27 ویں آئینی ترمیم کا نیا متن پیش کیا گیا۔وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے 27 ویں ترمیم کے نئے متن کو سینیٹ میں پیش کیا جس کے بعد ترامیم کو شق وار منظور کیا گیا۔زیر قانون کی جانب سے ترمیم پیش کیے جانے کے موقع پر اپوزیشن نے ایوان میں ڈیسک بجاکر احتجاج کیا جب کہ ترامیم کی شق وار منظوری کے دوران بھی اپوزیشن ارکان نے احتجاج کرتے ہوئے نعرے بازی کی۔اپوزیشن اراکین نے عدلیہ کی تباہی نامنظور کے نعرے لگائے جس پر چیئرمین سینیٹ نے انہیں نعرے بازی سے منع کیا۔پی ٹی آئی کی فلک ناز ، مرزا آفریدی اور فیصل جاوید نے چیئرمین ڈائس کے سامنے دھرنا دے دیا جب کہ پی ٹی آئی ارکان ووٹنگ کا حصہ نہیں بنے۔ جے یو آئی کے 4 ارکان نے بل کے خلاف ووٹ دیا جب کہ سینیٹر سیف اللہ ابڑو اور احمد خان نے ووٹ آئینی ترمیم کے حق میں دیا، کلاز 2  میں ترمیم کے حق میں 64 ووٹ آئے اور ترمیم کے خلاف 4 ووٹ آئے۔