اسلام آباد (خصوصی رپورٹ )سابق چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی نے کہا ہے کہ تین صوبے مرکز پر یقین نہیں رکھتے، اگر این ایف سی ایوارڈ نہ دیا گیا تو شاید مستقبل میں تمام مالیاتی معاملات ایک صوبے کے ہاتھ میں ہوں، پاکستان بھی اسی وجہ سے ٹوٹا تھا،یہ ملک آئی ایم ایف کی شرائط پر چل رہا ہے، مانیں یا نہ مانیں، ہم اس ریاست کو نہیں چلا سکتے۔ ایک نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے شبر زیدی نے کہا کہ ہمیں حقیقت پسند ہونے کی ضرورت ہے۔ 13ہزارارب روپے کا ہدف ایک بڑا ہدف ہے اور ہم اس کا ایک چوتھائی حصہ جمع کرتے ہیں۔ میرے خیال میں اس سہ ماہی میں ایف بی آر کی کارکردگی خراب نہیں ہے، میں بہت سی چیزوں سے متفق نہیں ہوں، لیکن ٹیکس وصولی کی صورت حال خراب نہیں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ 35ہزارارب کا ٹارگٹ ہے، پاکستان کو بہتری کے لیے 26ہزار ارب روپے ٹیکس جمع کرنا ہو گا۔شبر زیدی نے کہا کہ پہلی بات تو یہ ہے پاکستان میں حکومت نہیں ہے۔ کیا پارلیمنٹ نے یہ ٹیکس سسٹم دیا ہے؟ یہ ملک آئی ایم ایف کی شرائط پر چل رہا ہے، پارلیمنٹ ٹیکس نہیں جانتی صرف شام 5 بجے آئینی ترمیم کر سکتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ جے یو آئی کے مطابق ٹیکس انگریز کا نظام ہے، ہم زکوۃ پر یقین رکھتے ہیں۔ ٹیکس ہمارے جینز/ڈی این اے میں نہیں ہے۔شبر زیدی نے کہا کہ مانیں یا نہ مانیں، ہم اس ریاست کو نہیں چلا سکتے۔