میڈیا چینلز کے ملازمین کو بقایا جات کی ادائیگی کے حوالے سے جلد اچھی خبر ملے گی،محمد سلیم بیگ کی قائمہ کمیٹی کو بریفنگ
اسلام آباد (آئی این پی ) چیئرمین پیمرامحمد سلیم بیگ نے کہا ہے کہ وہ غیر قانونی یا غیر اخلاقی مواد کے خلاف شکایات پر فوری کارروائی کرتے ہیں لیکن زیادہ سختی کریں تو اظہار رائے کی آزادی خطرے میں پڑ جاتی ہے جب کہ میڈیا چینلز کے ملازمین کو بقایا جات کی ادائیگی کے حوالے سے جلد اچھی خبر ملے گی۔ پولین بلوچ کی زیرِ صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس ہوا۔ اجلاس میں سرکاری ٹیلی ویژن میں اینکرز اور ان کی تنخواہوں کا معاملہ زیر بحث آیا۔رکن کمیٹی حنیف عباسی نے کہا کہ وزارت نے سرکاری ٹیلی ویژن میں اینکرز اور ان کی تنخواہوں کی فہرست فراہم نہیں کی، کمیٹی نے اگلے اجلاس میں پی ٹی وی میں بھرتی کیے گئے اینکرز اور تجزیہ کاروں کی تفصیلات طلب کرلیں۔کمیٹی ارکان نے وفاقی وزیر اور سیکریٹری اطلاعات کی عدم شرکت پر بھی تشویش کا اظہار کیا، وزارت اطلاعات کے حکام نے بتایا کہ وفاقی وزیر عطا تارڑ اس وقت وزیراعظم کے ہمراہ بیرون ملک دورے پر ہیں اور وفاقی سیکرٹری لاہور میں موجود ہیں۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ سیکرٹری اطلاعات کی موجودگی ضروری ہے، آئندہ اجلاس میں سیکرٹری اطلاعات موجود نہ ہوئیں تو اجلاس ملتوی کر دیا جائے گا۔پیمرا حکام نے کمیٹی کو بریفنگ میں بتایا کہ پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی 2002 میں قائم کی گئی تھی، پیمرا ٹی وی چینلز پر معلومات، تعلیم اور انٹرٹینمنٹ کے معیار کو یقینی بناتا ہے، گذشتہ برس سے ٹی وی چینلز کی شفاف ریٹنگز کو یقینی بنانا بھی پیمرا کا دائرہ اختیار ہے۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ 2023 سے ٹی وی چینلز کے ملازمین کی تنخواہوں کی بروقت ادائیگی کو یقینی بنانا بھی پیمرا کی ذمہ داری ہے، اس وقت 142 کے لگ بھگ لائسنس ہولڈرز ہیں، جب تک پیمرا کو ریٹنگ کی ذمہ داری نہیں ملی تھی ایک ہی کمپنی ریٹنگ دیتی تھی۔ پیمرا حکام نے بتایا کہ اس وقت 32 شہروں میں ریٹنگ میٹرز کام کر رہے ہیں، چیئرمین پیمرا کی سربراہی میں 4 ایکس آفیشو ممبرز سمیت اتھارٹی 13 ارکان پر مشتمل ہے، اس وقت 7 ارکان کی نشستیں خالی ہیں۔عبد الغفور حیدری نے کہا کہ امریکا اور دیگر ممالک میں بھی جرائم ہوتے ہیں، انسانی حقوق کی بات یہاں ہوتی ہے، ہمارے ٹی وی چینلز پر فحاشی، عریانی اور اداروں کی تضحیک عام ہے، ٹی وی چینلز پر قومی سلامتی کے خلاف مواد چلتا ہے۔چیئرمین پیمرا نے کہا کہ وہ غیر قانونی یا غیر اخلاقی مواد کے خلاف شکایات پر فوری کارروائی کرتے ہیں لیکن زیادہ سختی کریں تو اظہار رائے کی آزادی خطرے میں پڑ جاتی ہے جب کہ میڈیا چینلز کے ملازمین کو بقایا جات کی ادائیگی کے حوالے سے جلد اچھی خبر ملے گی۔