فرانس میں پاکستان کی سفیر ممتاز زہرا بلوچ نے ایک فرانسیسی اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ کشیدگی ایک بڑی تباہی کا پیش خیمہ بن سکتی تھی، لیکن جنگ بندی نے دونوں ایٹمی ممالک کو سنگین تصادم سے بچا لیا۔
انہوں نے کہا کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی حالیہ تقریر اس بات کا ثبوت ہے کہ موجودہ بھارت گاندھی کا بھارت نہیں رہا، بلکہ ایک ایسا ملک بن چکا ہے جو اپنے ہمسایوں کے خلاف جارحانہ پالیسی اختیار کیے ہوئے ہے۔
مودی کا الزام بے بنیاد ہے
ممتاز زہرا بلوچ نے کہا کہ مودی کا یہ کہنا کہ پاکستان نے حملہ کیا ہے، حقیقت کے بالکل برعکس ہے۔ درحقیقت بھارت نے پاکستان پر جارحیت کی، جبکہ پاکستان نے ہر موقع پر امن کا پیغام دیا اور کہا کہ پاکستانی عوام پرامن ہیں لیکن کسی بھی جارحیت یا دھمکی کو قبول نہیں کیا جائے گا۔
کشمیر اور سندھ طاس معاہدہ: اہم تنازعات
انہوں نے زور دیا کہ دیرپا امن کے لیے پاکستان اور بھارت کے درمیان بنیادی تنازعات کو حل کرنا ناگزیر ہے۔ ان میں سب سے اہم مسئلہ کشمیر کا ہے، جبکہ بھارت کی طرف سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی بھی پاکستان کی خوراک اور پانی کی سلامتی پر حملہ ہے جسے پاکستان کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔
دہشتگردی کے الزامات اور بین الاقوامی تحقیقات کی تجویز
انہوں نے بھارت کی طرف سے پہلگام حملے کا الزام پاکستان پر ڈالنے کو بھی بے بنیاد قرار دیا اور کہا کہ پاکستان نے اس واقعے پر بین الاقوامی تحقیقات کی تجویز دی ہے تاکہ حقائق سامنے آئیں، مگر بھارت نے یہ تجویز مسترد کر دی۔
امریکا اور بین الاقوامی برادری کا کردار
پاکستانی سفیر نے اس بات کی تصدیق کی کہ پاکستان شروع سے امریکا اور دیگر عالمی شراکت داروں سے رابطے میں تھا تاکہ کشیدگی کم کی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا کی جانب سے جنگ بندی کے لیے کردار قابلِ تحسین ہے۔
سیاسی اور عسکری توازن پر گفتگو
ممتاز زہرا بلوچ نے کہا کہ پاکستان اپنے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدامات کرے گا، چاہے ہتھیار چین سے حاصل کرے یا امریکا و فرانس سے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کسی ملک کا دروازہ بند نہیں کرتا کیونکہ اس کی اولین ترجیح قومی سلامتی ہے۔
رافیل طیارے گرانے کا دعویٰ
انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان نے کشیدگی کے دوران بھارت کے تین رافیل طیارے مار گرائے، اور کہا کہ موجودہ دور میں سیٹلائٹ اور دیگر ذرائع کی مدد سے اس قسم کی معلومات کو چھپانا ممکن نہیں۔
امن کی خواہش مگر دفاع کے لیے تیار
آخر میں انہوں نے کہا کہ پاکستان جارحیت نہیں چاہتا، مگر اگر جنگ مسلط کی گئی تو منہ توڑ جواب دے گا۔ پاکستان امن کا خواہاں ہے لیکن اپنی سالمیت اور خودمختاری پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔