اسلام آباد: سپریم کورٹ نے سابقہ فاٹا اور پاٹا کے علاقے میں سیلز ٹیکس ترمیمی ایکٹ کو بحال کر دیا ہے، جس کے بعد پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل کر دیا گیا۔
پشاور ہائی کورٹ نے سیلز ٹیکس ترمیمی ایکٹ کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے اسے کالعدم کر دیا تھا، جس کے بعد گھی اور اسٹیل ملز ایسوسی ایشن نے اس فیصلے کے خلاف اپیل کی تھی۔گھی اور اسٹیل ملز ایسوسی ایشن کے وکیل نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ ہائی کورٹ پارلیمنٹ کے متبادل قانون سازی نہیں کر سکتی اور نہ ہی درخواست میں کی گئی استدعا سے بڑھ کر ریلیف دے سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پشاور ہائی کورٹ نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا ہے اور اربوں روپے کے ٹیکس کا معاملہ ہے جس پر فیصلے کی اہمیت ہے۔
سپریم کورٹ نے پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کو معطل کرتے ہوئے فریقین کو نوٹس جاری کر دیے ہیں اور اپیلوں کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی ہے۔ اس فیصلے کا اعلان جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں پانچ رکنی آئینی بنچ نے کیا۔اس فیصلے کے بعد سابقہ فاٹا اور پاٹا کے علاقوں میں سیلز ٹیکس کے حوالے سے قانونی صورتحال میں اہم تبدیلی آ گئی ہے اور اس سے متعلق مزید فیصلے کے لیے سماعت ملتوی کر دی گئی ہے۔