تہران میں دھماکے، عراق میں امریکی طیارہ گرکرتباہ،بحری بیڑہ ابراہم لنکن پر میزائل حملہ

جنگ میں شدت،6امریکی فوجی ہلاک 
  اسرائیل کا ایرانی نیوکلیئر سائٹس کونشانہ بنانے کا دعویٰ، یوم قدس ریلی کے قریب دھماکا، عراق میں فرانسیسی فوجی ہلاک،اسرائیل پر راکٹ حملے،80 زخمی ،لبنان میں یونیورسٹی پر حملہ،2سائنسدان شہید، سعودیہ نے مزید 8ڈرون مارگرائے،دبئی کے آئل رِگ میں آگ ،عمان میں 2غیرملکی ہلاک،ترکیہ میں میزائل تباہ
 تہران (خصوصی رپورٹ)ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے بیان کے بعد ایران نے اسرائیل پر شدید بمباری کرتے ہوئے تل ابیب کے مرکز اور امریکی فوج کے اڈوں کو نشانہ بنایا ہے جس میں کم از کم 200 صیہونی زخمی ہو گئے ہیں،ایران نے امریکا کے طیارہ بردار ابراہم لنکن پر بھی میزائلوں سے حملہ کر دیا، پاسداران انقلاب کاکہنا ہے کہ میزائل حملوں سے ایئرکرافٹ کیریئر ابراہم لنکن کو نقصان پہنچا ہے۔امریکی بحری بیڑے کو ’غیر فعال‘ کر دیا ہے اور یہ پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو گیا ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ جمعرات کو امریکی بحری بیڑے کو ایران کی سمندری حدود سے 340 کلو میٹر دْور بحیرہ عمان میں نشانہ بنایا گیا۔تاہم امریکی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ ابراہم لنکن بدستور آپریشن ایپک فیوری میں حصہ لے رہا ہے اور سمندر سے اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔عراق میں امریکی جنگی طیارہ گرنے پر امریکا کو بڑے نقصان کا سامنا کرنا پڑا،امریکی حکام نے فوجی طیارہ گرنے کے واقعے میں 6 امریکیوں کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ،حکام کا کہنا ہے کہ اس طیارے پر عملے کے 6 اراکین سوار تھے تمام کی ہلاکت ہوئی۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ فوج کا ایک کے سی 135 ایندھن بردار جہاز ’دو طیاروں کے درمیان پیش آنے والے ایک واقعے‘ کے بعد گِر کر تباہ ہوا،دوسری جانب ایران کے حمایت یافتہ مسلح دھڑوں کے اتحاد ’اسلامک مزاحمتی گروپ عراق‘ نیامریکی فوجی طیارے پر حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔جبکہ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکخواں نے عراق کے شہر اربیل میں ایک فرانسیسی فوجی مارے جانے کی تصدیق کی ہے۔کچھ دیر قبل فرانسیسی فوج نے اعلان کیا تھا کہ تربیتی کارروائی کے دوران اس کے متعدد فوجیوں کو ڈرون حملے میں نشانہ بنایا گیا ہے۔ ایرانی حملوں کے بعد اسرائیل کے بن گوریان ایئرپورٹ پر افراتفری مچ گئی، افراتفری کے دوران ایئرپورٹ پر موجود افراد نے کاو?نٹر پر کھڑے عملے سے ہاتھا پائی کی اور چیزیں پھینکی، جواب میں عملے نے بھی چیزیں پھینکنا شروع کر دیں، اسرائیل کے زیر قبضہ الجلیل شہر میں راکٹ گرنے سے 80 افراد زخمی ہوگئے، کئی زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے جبکہ 300 سے زائد گھر تباہ ہوئے، اسرائیلی جارحیت کے خلاف حزب اللہ نے شمالی اسرائیل پر راکٹ حملہ کیا تھا تاہم ابھی یہ واضح نہیں ہوا کہ تباہی حزب اللہ کے راکٹ گرنے سے ہوئی یا ایرانی میزائل حملے میں ہوئی۔اسرائیلی ایمرجنسی سروسز نے جمعے کی علی الصبح شمالی حصے میں واقع ایک گاو?ں پر میزائل گرنے سے درجنوں افراد زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔وسطی تہران میں یوم القدس پر حکومت کی حمایت میں نکالی جانے والی ریلی کے قریب دھماکے ہوئے ہیں،مارچ میں ہزاروں ایرانی فلسطین کی حمایت میں شریک تھے،مرکزی انقلاب سکوائر کے قریب دھماکوں کے دھویں کے بادل اٹھنے کے باوجود لوگ ’اللہ اکبر‘ اور ’امریکہ مردہ باد‘ کے نعرے لگاتے ہوئے دیکھے گئے۔ایرانی پاسداران انقلاب گارڈز کا کہنا ہے القدس کی آزادی قریب ہے، فتح آزادی کے متلاشیوں اور مظلوموں کی دسترس میں ہے، آپریشن وعدہ صادق 4 کی 44ویں لہر گزشتہ صبح القدس کے شہداء￿  کی یاد میں داغی گئی۔پانچواں امریکی بحری بیڑہ اور امریکی اڈے بابرکت رمضان کی تئیسویں صبح نشانہ بنائے، مسلسل، جامع آپریشن میں میزائلوں اورڈرونز سے اسرائیلی اہداف کونشانہ بنا رہے ہیں۔دوسری جانب امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بروجرد میں پولیس ہیڈ کوارٹر تباہ ہوگیا، تہران میں بسیج فورس کے اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا، فوجی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا، درجنوں گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔اسرائیل کا کہنا ہے تہران میں ایسے کمپاو?نڈ پر حملہ کیا گیا جہاں جوہری ہتھیاروں کی تیاری سے متعلق سرگرمیاں جاری تھیں، ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا ہے امریکی اور اسرائیلی حملوں سے بوشہر نیوکلیئر پاور پلانٹ کو خطرہ لاحق ہے۔ایران کا مزید کہنا ہے کہ پلانٹ سے چند کلومیٹر دور دھماکے ہوئے، حملوں سے آئی اے ای اے کی نگرانی کے عمل میں رکاوٹ پیدا ہو رہی ہے۔اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ایرانی حکومت کے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، اسرائیلی فوج نے ایران میں نیوکلیئر پروگرام کی اہم سائٹس کو بھی نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے، تہران کے قریب طالقان میں واقع سائٹ کو جنگی جہازوں نے نشانہ بنایا گیاہے۔ یونیسف نے کہا ہے کہ جنگ کے آغاز سے اب تک خطے میں 1100 سے زائد بچے لقمہ اجل بنے یا زخمی ہوچکے، ان میں 200 بچے ایران، 91 لبنان، 4 اسرائیل اور ایک بچہ کویت میں مارا گیا۔چین نے امریکی اور اسرائیلی حملوں میں شہید ہونے والے ایرانی طلبہ کے والدین کیلئے ہنگامی بنیادوں پر مالی امداد فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے،چینی وزارت خارجہ کے مطابق ریڈ کراس سوسائٹی آف چائنا کی جانب سے 2 لاکھ ڈالر کی ہنگامی امداد دی جائے گی۔ یہ امدادی رقم باقاعدہ طور پر ایرانی ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کے حوالے کی جائے گی تاکہ اسے متاثرہ خاندانوں تک پہنچایا جا سکے۔ادھر دفاعی سسٹم تھاڈ جنوبی کوریا سے اسرائیل منتقل کردیا گیا، امریکی فوجی ٹرانسپورٹ طیاروں نے جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیئول کے جنوب میں پیونگٹائیک شہر میں واقع امریکا کے اوسان ائیر بیس سے دفاعی سامان منتقل کیا۔دریں اثنا سعودی وزارتِ دفاع کے ترجمان کے مطابق سعودی عرب کے فضائی دفاع نے مزید 8 ڈرون مار گرائے، ڈرون وسطی اور مشرقی علاقوں، ریاض کے مغرب اور الخرج میں تباہ کیے گئے،مختلف حملوں کی لہر میں اب تک مجموعی طور پر 22 ڈرون تباہ کیے جا چکے ہیں۔جبکہ دبئی کے وسطی علاقے میں فضائی حملہ ناکام بنانے کے بعد ملبہ عمارت پر گر گیا جس سے عمارتے کے اگلے حصے کو معمولی نقصان پہنچا، حکام نے واضح نہیں کیا کہ حملہ میزائل سے کیا گیا تھا یا ڈرون کے ذریعے کیا گیا۔ متحدہ عرب امارات کے ساحل کے قریب آئل رِگ میں آگ بھڑک اٹھی ، میری ٹائم سکیورٹی کی ایک کمپنی امبری کے مطابق ایک تجارتی بحری بیڑے نے متحدہ عرب امارات کے ساحل کے قریب ایک آئل رِگ پر آگ لگنے کی اطلاع دی ہے۔ دبئی کی جبل علی بندرگاہ کے شمال مغرب میں لگنے والی اس آگ کی وجہ کی تحقیقات کی جا رہی ہیں اور کسی جہاز کو نقصان یا عملہ زخمی نہیں ہوا ہے۔ایران نے بحرین میں امریکی فوجی اڈے پر میزائلوں اور ڈرونز سے حملیکئے، ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے مطابق حملے بحرین کے دارالحکومت منامہ کے علاقے مینا سلمان میں قائم امریکی بحری اڈے پر کیا گیا، حملوں میں بیس کی مختلف تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا جن میں اینٹی ڈرون دفاعی نظام، ڈرونز کی اسٹوریج اور مرمت کے مراکز، سپورٹ آلات اور فیول ٹینکس شامل ہیں۔پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ حملوں میں امریکی فوجی تنصیبات کو نقصان پہنچا ہے۔عمان میں صحار کے الاواحی صنعتی علاقیمیں ڈرون گرنے سے دو غیر ملکیوں کی ہلاکت ہوئی ہے، جبکہ متعدد زخمی ہو گئے۔ایک دوسرا ڈرون بھی صحار کے ایک کھلے علاقے میں گر کر تباہ ہوا لیکن اس میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ترکیہ کی وزارتِ دفاع کے مطابق ترک فضائی حدود میں داخل ہونے والا ایران سے داغا گیا ایک بیلسٹک میزائل مشرقی بحیرہ? روم میں تعینات نیٹو کے ’اثاثوں‘ نے تباہ کر دیا ہے۔لبنان پر اسرائیلی فورسز کے حملوں میں مزید 8 افراد جاں بحق ہوگئے جبکہ 2 مارچ سے جاری حملوں میں جاں بحق افراد کی مجموعی تعداد 687 ہوگئی جن میں 90 سے زائد بچے بھی شامل ہیں۔اسرائیلی طیاروں نے لبنان کے دارالحکومت بیروت میں یونیورسٹی کے شعبہ سائنسز کے صحن کو نشانہ بنایا ہے،اسرائیلی میڈیا کے مطابق حملے میں پروفیسر اور سائنسدان ڈاکٹر حسین بیزی اور ڈاکٹر مرتضیٰ سرور شہید ہوگئے۔ادھر اسرائیلی فوج نے بیروت میں حزب اللہ کے کمانڈ مراکز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا،اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ جنوبی لبنان میں ’حزب اللہ کے انفرسٹرکچر‘ کو نشانہ بناتے ہوئے متعدد حملے کیے ہیں۔ امریکہ کے وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے دعویٰ کیا کہ ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای ’زخمی‘ ہیں۔ پیٹ ہیگستھ نے ایرانی سرکاری ٹی وی پر کل مجتبیٰ خامنہ ای کا پڑھا گیا تحریری بیان یاد دلاتے ہوئے سوال اٹھایا کہ اس میں کوئی ویڈیو یا آڈیو کیوں نہیں تھی۔ پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ ’میرا خیال ہے آپ جانتے ہیں کیوں۔‘وزیرِ دفاع نے مزید کہا کہ مجتبیٰ ’خوفزدہ‘ اور ’زخمی‘ ہیں، اور دعویٰ کیا کہ وہ ’چھپتے پھر رہے ہیں۔‘ان کے مطابق ایران کے میزائل حملوں کی تعداد 90 فیصد کم ہو چکی جبکہ اس کے یکطرفہ حملہ آور ڈرونز 95 فیصد تک کم ہو گئے ہیں۔پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز، جو دنیا کا سب سے مصروف تیل برداری کا راستہ ہے، میں ’انتہائی مایوسی‘ کا مظاہرہ کر رہا ہے لیکن یہ ’کچھ ایسا ہے جس سے ہم نمٹ رہے ہیں۔‘پینٹاگون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی وزیرِ دفاع نے کہا کہ امریکہ ’ایرانی حکومت کی فوج کو اس انداز میں تباہ کر رہا ہے جیسا دنیا نے پہلے کبھی نہیں دیکھا۔‘امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایک بیان میں ایرانی حکومت کے ارکان کی امریکی فوج کے ہاتھوں ہلاکت کو اپنے لیے ’بڑا اعزاز‘ قرار دیا ہے۔صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا اکاو?نٹ تروتھ سوشل پر لکھا کہ ’ہم ایران کی دہشت گرد حکومت کو فوجی، معاشی اور دیگر طریقوں سے مکمل طور پر تباہ کر رہے ہیں۔‘ٹرمپ نے الزام عائد کیا کہ ’47 برسوں سے دنیا بھر میں وہ(ایران) بے گناہ لوگوں کو قتل کر رہے ہیں اور اب میں، بطور امریکہ کا 47 واں صدر انھیں ہلاک کر رہا ہوں۔ یہ کرنا کتنا بڑا اعزاز ہے۔‘ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کی بحریہ ختم ہو گئی ہے، ان کی فضائیہ اب موجود نہیں، میزائل، ڈرون اور باقی سب کچھ تباہ کیا جا رہا ہے، اور ان کے رہنماوں کا نشان تک زمین سے مٹا دیا گیا ہے۔‘انھوں نے کہا کہ ’ہمارے پاس موجود اسلحہ اور جنگی طاقت بہت زیادہ ہے اور بہت زیادہ وقت ہے۔ دیکھیں کہ ان لوگوں کے ساتھ آج کیا ہوتا ہے۔‘امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ان کے خیال میں ایران کے نئے رہبرِ اعلیٰ کو ایک حملے میں شدید زخمی ہوئے ہیں لیکن ’کسی نہ کسی صورت میں غالباً وہ زندہ ہیں۔‘