دبئی میں امریکی ٹیکنالوجی کمپنی کو نشانہ بنایا گیا، کویت کی آئل ریفائنری پر ڈرون حملہ، متعدد آپریشنل یونٹس میں آگ بھڑک اٹھی،اردن میں امریکی بیسز پر حملے
لاجسٹک سینٹر اور جنگی طیارے نشانہ بنانے کا دعوی‘ اگلے اہداف پل اور پاور پلانٹس ہو سکتے ہیں:ٹرمپ‘ایرانی بحریہ کے کمانڈر علی رضا تنگسیری کی تدفین کر دی گئی
تہران، واشنگٹن(آئی این پی )مشرق وسطی میں جنگ 35 ویں روز میں داخل ہو گئی، امریکا اسرائیل کے حملوں میں شدت آ گئی، تہران، کرج، قم، بندرعباس اور ایران کے دیگر علاقوں پر حملے کیے گئے، ایران نے امریکی تنصیبات اور اسرائیلی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا ہے، قیشم جزیرے پر لڑاکا طیارہ مار گرایا، ابراہم لنکن بیڑے پر کروز میزائلوں سے حملہ کیا۔سوشل میڈیا صارفین اور ذرائع ابلاغ نے گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران مغربی تہران، ملارد، پارچین، کرج، مہرشہر، شہریار، بندرعباس، بہبہان، برازجان اور بوشہر میں دھماکوں کی اطلاعات دی ہیں، اسی طرح تبریز، شیراز اور قم میں بھی دھماکوں اور حملوں کی خبریں سامنے آئی ہی۔ایرانی پاسداران انقلاب نے دعوی کیا ہے کہ اس نے ایک اور امریکی ایف-35 طیارہ اس وقت مار گرایا جب وہ وسطی ایران کے اوپر پرواز کر رہا تھا۔فارس نیوز ایجنسی کی ٹیلیگرام پوسٹ میں بتایا گیا کہ لڑاکا طیارہ مکمل طور پر تباہ ہو کر گر کر تباہ ہو گیا‘۔پاسدارانِ انقلاب نے دعوی کیا ہے کہ انھوں نے دبئی میں امریکی ٹیکنالوجی کمپنی اوریکل کے ایک ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنایا ہے، یہ حملہ گزشتہ روز کمال خرازی اور ان کی اہلیہ کے قتل کی کوشش کے جواب میں کیا گیا، تاہم دبئی انتظامیہ نے ایران کی جانب سے اوریکل کمپنی پر حملے کے دعوے کی تردید کی ہے۔ایران نے کہا ہے کہ اس کے تازہ حملوں کی لہر میں متحدہ عرب امارات، بحرین اور اسرائیل میں اہداف کو نشانہ بنایا گیا، اور یہ اس کی صنعتی تنصیبات پر پہلے ہونے والے امریکی اور اسرائیلی حملوں کا جواب تھا، ایران کے مطابق ان اہداف میں ابوظہبی میں امریکی سٹیل صنعتیں، بحرین میں امریکی ایلومینیم صنعتیں، اور صہیونی حکومت کی رفائیل اسلحہ فیکٹریاں شامل تھیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے اگلے اہداف پل اور پھر پاور پلانٹس ہو سکتے ہیں۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے گزشتہ شب ایران کے انفرااسٹرکچر کو نشانہ بنانے کی نئی دھمکی دی ہے۔اپنے سوشل میڈیا بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے لکھا ہے کہ امریکی فوج جو دنیا کی عظیم اور طاقتور فوج ہے، اس نے ابھی تک ایران میں جو کچھ بچا ہے اسے تباہ کرنا شروع نہیں کیا، اگلا ہدف پل ہوں گے، اس کے بعد پاور پلانٹس کو نشانہ بنایا جائے گا۔یرانی فوج نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ اگر ایرانی پاور پلانٹس کو نشانہ بنایا گیا تو وہ خطے میں توانائی کے انفرااسٹرکچر اور امریکی شیئرز رکھنے والی ٹیلی کمیونیکیشن و انفارمیشن کمپنیوں پر حملے کرے گا۔