لاہور(سپورٹس ڈیسک)پی سی بی کے تحت 11 اپریل سے شروع ہونے والی پی ایس ایل 10 کی ٹرافی کی منفرد انداز میں سمندر میں رونمائی کر دی گئی۔پاکستان نیوی کے تعاون سے بحیرہ عرب کے گہرے پانی میں ٹرافی کی رونمائی کے بعد اسے پی ایس ایل کے اسٹیک ہولڈرز کے حوالے کیا گیا۔ قبل ازیں غیرملکی غوطہ خور نے کھلے سمندر کی گہرائی میں غوطہ زنی کرکے جیسے خزانہ برآمد کیا،اس یادگار موقعہ پر سابق ٹیسٹ کپتان معین خان اور سرفراز احمد سمیت دیگر بھی موجود تھے۔چاندی سے تیار شدہ دس کلو وزنی ٹرافی میں 22 ہزار سے زائد رغون کے قیمتی پتھر استعمال کیے گئے ہیں۔ایچ بی ایل پاکستان سپر لیگ نے اپنے تاریخی10 ویں ایڈیشن کی ٹرافی کی رنمائی کھلے سمندر کرکے منفرد انداز اپنایا، اس منفرد منظر کے موقع پر پی سی بی اور ایچ بی ایل کے حکام، فرنچائز کے نمائندے اور کرکٹرز موجود تھے۔ سابق ٹیسٹ کپتان معین خان، سرفراز احمد، رومان رئیس، پی ایس ایل کے سی ای او سلمان نصیر، کوئٹہ گلیڈیٹر کے حسن ندیم عمر، ایچ بی ایل کے علی حبیب، ابرار احمد میر اور دیگر شامل تھے۔ٹرافی کو لومینار کا نام دیا گیا ہے جو روشنی کی علامت ہے۔ چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کا کہنا ہے کہ سمندر میں ٹرافی کی نقاب کشائی لیگ کی جدت اور عمدگی کے عزم کا ثبوت ہے، جیسا کہ ہم ایچ بی ایل پی ایس ایل کی ایک دہائی منا رہے ہیں، یہ ٹرافی لیگ کی چمکتی ہوئی میراث اور اس کے روشن مستقبل کی نمائندگی کرتی ہے،انہوں نے کہا کہ یہ اقدام لیگ کی تاریخ میں ایک نئے سنگ میل کی نشاندہی کرتا ہے جو جدت، ابھرنے کی قوت اور پاکستان کے پریمیر ٹی ٹوئنٹی مقابلے کی روح کی علامت ہے۔ ایچ بی ایل پی ایس ایل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سلمان نصیر کا کہنا ہے کہ ایچ بی ایل پاکستان سپر لیگ ہمیشہ سے میدان کے اندر اور باہر آگے بڑھتی رہی ہے، جس طرح سمندر گہرائی رکھتا ہے اسی طرح ایچ بی ایل پی ایس ایل ٹیلنٹ اور اسپورٹسمین شپ کا گہرا ذخیرہ رہی ہے۔اْن کا کہنا تھا کہ یہ انوکھی نقاب کشائی اسی جذبے کی گہرائی کی نمائندگی کرتی ہے جو ہمارے کھلاڑی اور شائقین اس کھیل میں لاتے ہیں۔