نوازشریف نے نیشنل ایکشن پلان بنایا، شہبازشریف کیوں نہیں بنا سکتے جب بینظیروزیراعظم تھیں مجھے اغواء کرنے کی کوشش کی گئی بلاول بھٹو

ہم نے سب سے زیادہ دہشت گردی بھگتی، اس وقت ماضی سے زیادہ خطرناک صورتحال ہے، ماضی جیسا اتفاق رائے اب نہیں ہورہا ہے، ہمارے اختلاف کا فائدہ دشمن قوتیں اٹھا رہی ہیں، ایک کے بعد ایک دہشتگردی کا واقعہ ہورہا ہے
 عالمی قوتوں کی سرپرستی ان دہشتگردوں کو حاصل ہے، مذمت سے بات نہیں بنے گی طے کرنا ہوگا  ہم نے کیا کرنا ہے؟ ، وزیر اعلی بلوچستان و وزیر اعلی خیبرپختونخوا کو وفاق کو غیر مشروط سپورٹ دینا چاہئے:چیئرمین  پی پی کا قومی اسمبلی میں خطاب
  اسلا م آباد(آئی این پی )پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین  بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے  ہماری جماعت نے سب سے زیادہ دہشتگردی نے بھگتی ہے، میں وزیر اعظم کا بیٹا تھا،  میں ایک سال کا تھا کہ مجھے گھر سے اغواکرنے کی کوشش کی گئی، میری ماں نے مجھے لندن میں محفوظ رکھا، آخر کار میری والدہ کو شہید کیا گیا، بے نظیر شہید کے بعد دہشتگردی میں تیزی آئی۔قومی اسمبلی اجلاس میں  جعفر ایکسپریس پر حملے کے حوالے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ٹرین حادثہ پر فورسز کو سلام پیش کرتے ہیں کہ انہوں نے بہت بڑے سانحہ سے بچا لیا، دہشتگردی کوئی نیا مسئلہ نہیں، دہشتگردی کا بلوچستان کے پی کے کا الگ الگ تناظر ہے۔ان کا کہنا تھا کہ مذہبی دہشت گردی ہویا علیحدگی پسندی کی دہشتگردی ہو، پی پی سب کی مخالفت کرتی ہے، پیپلزپارٹی سے زیادہ دہشتگردی کس نے بھگتی ہے۔بلاول بھٹو نے کہا کہ میں وزیر اعظم کا بیٹا تھا،  میں ایک سال کا تھا   اس وقت میری والدہ وزیراعظم تھیں جب مجھے گھر سے اغواکرنے کی کوشش کی گئی، میری ماں نے مجھے لندن میں محفوظ رکھا، آخر کار میری والدہ کو شہید کیا گیا، بے نظیر شہید کے بعد دہشتگردی میں تیزی آئی۔ان کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کے خلاف جو پوری دنیا نہ کرسکی پاکستان نے کردکھایا، پاکستان کی فورسز عوام نے قربانیاں دے کر پاکستان کو دہشتگردی سے پاک کردیا تھا، یہ ایوان متحد ہوا تو دہشتگردی کو کچلا، جب پی ٹی آئی دھرنے پر تھی تو اے پی ایس ہوا، ہم سب نے ملکر نیشنل ایکشن پلان بنایا۔چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ ہم نے دہشتگردوں کی کمر توڑ کر رکھ دی، آج پھر سے وہی دہشتگردی سر اٹھا رہی ہے، اس وقت ماضی سے زیادہ خطرناک صورتحال ہے، ماضی جیسا اتفاق رائے اب نہیں ہورہا ہے، ہمارے اختلاف کا فائدہ دشمن قوتیں اٹھا رہی ہیں، ایک کے بعد ایک دہشتگردی کا واقعہ ہورہا ہے، ہر دہشتگردی کا اگلا واقعہ پہلے سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔بلاول بھٹو نے کہا کہ دہشتگردوں کا کوئی نظریہ و سیاست نہیں ہوتا، مذہبی دہشتگردوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا، ان سب دہشتگردوں کا مقصد صرف بے گناہ عوام کو مارنا ہوتا ہے، نہ مذہبی دہشتگرد اسلام کا نفاذ چاہتا ہے، نہ لسانی یا بلوچ دہشتگرد بلوچستان کی آزادی یا حقوق چاہتا ہے وہ بھی خوف پھیلانا چاہتا ہے، جن لوگوں کو شہید کیا جاتا ہے ان کا کسی حکومت کاکام سے کیا لینا دینا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ عالمی قوتوں کی سرپرستی ان دہشتگردوں کو حاصل ہے، مذمت سے بات نہیں بنے گی طے کرنا ہوگا کہ ہم نے کیا کرنا ہے؟ دہشتگرد پاراچنار سے لیکر بلوچستان تک عوام کو قتل کررہے ہیں، ہم سب کو دہشتگردی کے خلاف متحد ہونا ہے، وزیر دفاع نے وزیر اعلی بلوچستان کی تعریف کی اچھی بات ہے، دہشتگردی کے خلاف وزیر اعلی بلوچستان و وزیر اعلی کے پی کے کو وفاق کو غیر مشروط سپورٹ دینا چاہئے