ایرانی جوہری سائنسدان اہلیہ سمیت اسرائیلی ڈرون حملے میں شہید

ایرانی جوہری سائنسدان اہلیہ سمیت اسرائیلی ڈرون حملے میں شہید

تہران: ایران کے ممتاز جوہری سائنسدان اسر طباطبائی قمشہ اور ان کی اہلیہ اسرائیلی ڈرون حملے میں شہید ہوگئے۔

 ایرانی میڈیا نے واقعے کی باضابطہ تصدیق کرتے ہوئے اسے ایران کے خلاف ایک اور سنگین جارحیت قرار دیا ہے۔تفصیلات کے مطابق یہ حملہ دو روز قبل تہران کے ایک رہائشی اپارٹمنٹ پر کیا گیا، جس میں ڈرون ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا۔ حملے کے وقت اسر طباطبائی قمشہ اپنی رہائش گاہ پر موجود تھے، جہاں ان کی اہلیہ بھی ان کے ہمراہ تھیں۔ دونوں موقع پر ہی شہید ہوگئے۔ایرانی سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات اور جائے وقوعہ سے ملنے والے شواہد اس حملے میں اسرائیلی ہاتھ کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔ حکام نے دعویٰ کیا کہ یہ کارروائی ایرانی جوہری پروگرام کو کمزور کرنے کی ایک کڑی ہے، اور ایسے حملے ایران کے دفاعی اقدامات کو متاثر نہیں کر سکتے۔اسر طباطبائی قمشہ ایران کے حساس جوہری منصوبوں سے وابستہ اہم ترین سائنسدانوں میں شمار ہوتے تھے، جنہوں نے یورینیم افزودگی، نیوکلیئر میٹریلز اور توانائی کے شعبے میں کلیدی خدمات سرانجام دیں۔

ایران کی وزارتِ خارجہ اور محکمہ دفاع نے اس واقعے پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے اسے کھلی جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ایرانی حکام نے عالمی برادری، بالخصوص اقوامِ متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیلی دہشت گردی کے خلاف فوری اقدامات کرے۔ایران میں قومی سطح پر غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے اور سوشل میڈیا پر ’’#شهید_هسته‌ای‘‘ (شہیدِ ہسته‌ای – نیوکلیئر شہید) ٹاپ ٹرینڈ بن چکا ہے۔ ایران کی اعلیٰ قیادت کی جانب سے جلد جوابی اقدامات کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔